پاکستان میں سولر پینل کے لیے بہترین زاویہ (Angle) کیا ہونا چاہیے؟ مکمل رہنمائی

 

پاکستان میں سولر پینلز کے لیے بہترین زاویہ — مکمل رہنمائی 


آج کل پاکستان میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور لوڈشیڈنگ کے مسئلے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ سولر سسٹم لگوا رہے ہیں۔ لیکن اکثر لوگ صرف پینل خرید کر لگا دیتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ سولر پینل کا زاویہ (Angle) کس حد تک بجلی کی پیداوار کو متاثر کرتا ہے۔ اگر سولر پینل کا زاویہ درست نہ ہو تو بجلی کی پیداوار 20 سے 30 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔

اس آرٹیکل میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ:

سولر پینل کو کس سمت (Azimuth) کی طرف رکھنا بہتر ہے؟ پاکستان کے مختلف شہروں کے لیے جھکاؤ (Tilt Angle) کتنا ہونا چاہیے؟ گرمی، سردی اور بارشوں کے موسم میں زاویہ بدلنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ کس طرح آپ اپنے گھر یا کاروبار کے لیے بہترین زاویہ خود طے کر سکتے ہیں۔ 1: Azimuth Angle (سمت کا زاویہ) کیا ہے؟ 

Azimuth Angle سے مراد یہ ہے کہ سولر پینل کس طرف منہ کر کے نصب کیا گیا ہے۔ پاکستان شمالی نصف کرے (Northern Hemisphere) میں واقع ہے، اس لیے یہاں پینلز ہمیشہ جنوب (South) کی طرف رکھنے چاہئیں۔

اگر پینل جنوب کے بجائے مشرق یا مغرب کی طرف رکھے جائیں تو دوپہر کے وقت زیادہ بجلی نہیں بن پاتی اور سارا سسٹم اپنی اصل صلاحیت پر کام نہیں کرتا۔ اس لیے یاد رکھیں:

 پاکستان میں ہمیشہ پینل South Facing ہونا چاہیے۔

        2: Tilt Angle (جھکاؤ کا زاویہ) کیا ہے؟ 

Tilt Angle وہ زاویہ ہے جس پر پینل کو زمین سے جھکایا جاتا ہے۔ یہ زاویہ آپ کے شہر کی Latitude (عرض بلد) کے قریب قریب ہونا چاہیے۔

پاکستان کے بڑے شہروں کے لیے تجویز کردہ زاویے: اسلام آباد → 33° لاہور → 31° کراچی → 25° پشاور → 34° کوئٹہ → 30° فیصل آباد → 31° سکھر → 27° ملتان → 30° 

یعنی اگر آپ لاہور میں ہیں تو پینل کو تقریباً 31 ڈگری پر جھکائیں، کراچی میں ہوں تو تقریباً 25 ڈگری پر، وغیرہ۔

        3: سال کے مختلف موسموں کے حساب سے زاویہ 

پاکستان میں دھوپ کا زاویہ گرمی اور سردی کے موسم میں بدلتا رہتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ سسٹم ہر موسم میں زیادہ بجلی دے تو زاویہ موسم کے حساب سے تھوڑا سا ایڈجسٹ کر سکتے ہیں۔

گرمیوں میں (مئی تا اگست): Latitude سے 10° کم رکھیں → بجلی دن کے وقت زیادہ ملے گی۔ سردیوں میں (نومبر تا فروری): Latitude سے 10° زیادہ رکھیں → صبح اور شام کی دھوپ بہتر ملے گی۔ اگر آپ سال بھر میں صرف ایک ہی زاویہ رکھنا چاہتے ہیں تو Latitude کے برابر رکھیں۔ 4: غلط زاویہ رکھنے کے نقصانات 

اگر پینل صحیح زاویے پر نہ ہو تو:

20–30% بجلی ضائع ہو سکتی ہے۔ بیٹریاں مکمل چارج نہیں ہوتیں۔ انورٹر پر لوڈ زیادہ پڑتا ہے۔ لمبے عرصے میں سرمایہ ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 5: پینل کے زاویے کا حساب کیسے لگائیں؟ 

اگر آپ خود زاویہ نکالنا چاہتے ہیں تو یہ فارمولا یاد رکھیں:

Tilt Angle ≈ آپ کے شہر کی Latitude

مثال: لاہور کی Latitude = 31° → تو پینل کو تقریباً 31° پر رکھیں۔

اس کے علاوہ موبائل ایپس بھی موجود ہیں جیسے PVGIS اور Solar Angle Calculator جو GPS کے ذریعے خود زاویہ بتا دیتی ہیں۔

                               6: عملی مثال 

اگر آپ نے لاہور میں 5kW کا سولر سسٹم لگایا ہے اور پینل کو صرف 15° پر رکھ دیا ہے تو آپ کو روزانہ تقریباً 20% کم بجلی ملے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کو روزانہ 25 یونٹ ملنے تھے تو صرف 20 یونٹ ملیں گے۔ سال کے آخر میں یہ فرق ہزاروں یونٹ کا ہو جائے گا۔

مزید سولر سسٹم کی معلومات کیلئے یہ لنک وزٹ کریں

                               7: نتیجہ 

پاکستان میں سولر پینل لگاتے وقت صرف اچھے برانڈ یا زیادہ واٹ والے پینل پر توجہ نہ دیں بلکہ زاویہ (Azimuth & Tilt Angle) پر بھی خاص توجہ دیں۔

ہمیشہ پینل کو جنوب (South) کی طرف رکھیں۔ زاویہ کو اپنے شہر کی Latitude کے قریب رکھیں۔ اگر ممکن ہو تو موسم کے حساب سے زاویہ بدلتے رہیں۔ 

صحیح زاویہ رکھنے سے آپ کے سولر سسٹم کی کارکردگی 25–30% بہتر ہو سکتی ہے اور آپ زیادہ سے زیادہ مفت بجلی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

                  تحریر: Info with Mughal


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے