خلافت راشدہ کا آغاز حضرت ابوبکر صدیق کا دور خلافت پارٹ 1
اسلام کی تاریخ میں خلافت راشدہ کا دور سنہری ادوار میں سے ایک ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد جب امت مسلمہ پر مشکل وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے راہنما عطا فرمائے
![]() |
| خلافت راشدہ کا آغاز حضرت ابوبکر صدیق کا دور خلافت پارٹ 1 |
جنہوں نے دین کی حفاظت کی اور امت کو متحد رکھا ان عظیم خلفاء میں سب سے پہلے نام حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے قریبی ساتھی اور سب سے پہلے مسلمان ہونے والے بالغ مردوں میں سے تھے
حضرت ابوبکر صدیق کی شخصیت اور ابتدائی زندگی
ابتدائی تعارف اور خاندانی پس منظر
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اصل نام عبداللہ بن عثمان تھا۔ آپ قریش کے معزز قبیلہ بنو تیم سے تعلق رکھتے تھے اور مکہ مکرمہ کے دولت مند اور باعزت تاجروں میں شمار ہوتے تھے آپ کی شخصیت میں نرمی حلم دانائی، سخاوت اور سچائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ لوگ آپ کی دیانت داری امانت داری اور پاکیزہ اخلاق پر مکمل اعتماد کرتے تھے زمانہ جاہلیت میں بھی آپ نے کبھی شراب نہیں پی اور نہ ہی بتوں کی پوجا کی مکہ کے لوگ مشکل وقت میں آپ سے مشورہ لیا کرتے تھے اور آپ کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی تھی یہی وجہ تھی کہ جب اسلام آیا تو آپ نے بلا تامل اسے قبول کر لیا اور اپنی پوری زندگی اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی
صدیق کا لقب کیسے ملا
صدیق کا مطلب ہے بہت زیادہ سچا اور تصدیق کرنے والا۔ یہ عظیم لقب آپ کو اس لیے ملا کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر بات کی فوری اور مکمل تصدیق کی خاص طور پر واقعہ معراج کے موقع پر جب بعض لوگ شک و شبہ میں پڑ گئے اور انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک رات میں بیت المقدس اور آسمانوں کا سفر کیسے ممکن ہو سکتا ہے تو حضرت ابوبکر نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فرمایا اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے تو یقیناً سچ فرمایا ہے۔ میں تو اس سے بھی بڑی بات کی تصدیق کرتا ہوں اس سچائی، ایمان کی پختگی اور بے لوث محبت نے آپ کو صدیق کا خطاب عطا کیا جو قیامت تک آپ کے ساتھ جڑا رہے گا
اسلام قبول کرنا اور ابتدائی جدوجہد
سب سے پہلے ایمان لانے کا شرف
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے بالغ مردوں میں نمایاں مقام حاصل کیا یہ وہ وقت تھا جب اسلام کی دعوت خفیہ تھی اور لوگ مکہ کے سرداروں اور قریش کے ظالموں کے خوف سے اسلام قبول کرنے سے ڈر رہے تھے۔ مگر حضرت ابوبکر نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے اسلام کی دعوت سنی تو بغیر کسی ہچکچاہٹ اور تذبذب کے فوراً حق کو پہچان لیا اور ایمان لے آئے آپ نے اپنی جان مال عزت خاندان اور ہر چیز اللہ اور اس کے رسول کے نام پر قربان کر دی۔ آپ کا اسلام قبول کرنا اتنا مضبوط اور پختہ تھا کہ کفار مکہ کی طرف سے شدید ترین اذیتوں کے باوجود آپ نے کبھی اسلام سے منہ نہیں موڑا۔
دوسروں کو اسلام کی دعوت اور تبلیغ
اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے اثر و رسوخ دولت اور شخصیت کو اسلام کی تبلیغ کے لیے استعمال کیا آپ مکہ کے معزز لوگوں میں سے تھے اور لوگ آپ کی بات سنتے تھے۔ آپ کی دعوت اور تبلیغ سے کئی بڑی اور اہم شخصیات نے اسلام قبول کیا ان میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دیگر عظیم صحابہ شامل ہیں یہ سب جلیل القدر صحابہ حضرت ابوبکر صدیق کی دعوت اور کوشش سے مسلمان ہوئے جو آپ کی شخصیت کی عظمت تبلیغ کے جذبے اور اخلاص کا واضح ثبوت ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گہرا تعلق
ہر مشکل وقت میں ساتھ دینا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کبھی کسی مخلص وفادار اور جانثار ساتھی کی ضرورت ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق سب سے پہلے حاضر ہوتے تھے آپ نے اپنا سارا مال اسلام کی راہ میں خرچ کیا اور کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ غزوات میں، ہجرت میں، تبلیغ میں ہر جگہ حضرت ابوبکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایک موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی تو حضرت ابوبکر اپنے گھر کا سارا مال لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا تو آپ نے بڑی خوبصورتی سے جواب دیا میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑا ہے
غار ثور کا تاریخی واقعہ
ہجرت کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے حکم سے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا فیصلہ کیا تو حضرت ابوبکر صدیق آپ کے ہمسفر اور رفیق سفر تھے کفار قریش نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور انعام کا اعلان کر رکھا تھا ایسے خطرناک وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت ابوبکر نے غار ثور میں پناہ لی اور تین راتیں اس غار میں گزاریں قریش کے دشمن ان کی تلاش میں غار کے بالکل دہانے تک پہنچ گئے حضرت ابوبکر کو فکر ہوئی اور انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اگر ان میں سے کسی نے نیچے دیکھ لیا تو ہم پکڑے جائیں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابوبکر! دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہو یہ اللہ پر توکل اور بھروسے کی عظیم مثال ہے
ایک اور مشہور واقعہ یہ ہے کہ غار کے ایک سوراخ سے سانپ یا کوئی زہریلا کیڑا نکلنے لگا حضرت ابوبکر نے فوراً اپنا پاؤں اس سوراخ پر رکھ دیا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی تکلیف یا اذیت نہ پہنچے۔ کاٹنے کی وجہ سے درد کی شدت سے آپ کی مبارک آنکھوں میں آنسو آ گئے مگر آپ نے آواز تک نہیں نکالی کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند میں خلل نہ پڑے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا اور پوچھا تو حضرت ابوبکر نے انتہائی عاجزی سے عرض کیا یا رسول اللہ تکلیف تو مجھے ہے لیکن میرا ڈر صرف اس بات کا ہے کہیں آپ کو کوئی اذیت نہ پہنچ جائے یہ قربانی فدا کاری اور بے لوث محبت کی ایسی بے مثال مثال ہے جو تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یاد رہے گی
امامت کا عظیم شرف
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آخری بیماری کے دوران جب مسجد نبوی میں نماز کی امامت نہیں کرا سکتے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق کو نماز کی امامت کا حکم دیا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ حضرت ابوبکر بہت نرم دل ہیں، ان کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار تاکید فرمائی کہ ابوبکر کو نماز پڑھانے کا حکم دو یہ اس بات کی واضح دلیل تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں حضرت ابوبکر امت مسلمہ کی دینی اور دنیاوی قیادت کے لیے سب سے زیادہ قابل اہل اور افضل شخصیت تھے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال اور حضرت ابوبکر کا کردار
امت مسلمہ پر مصیبت کا پہاڑ
12 ربیع الاول 11 ہجری کا دن اسلام کی تاریخ کا سب سے غمناک دن تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا۔ یہ خبر سن کر پوری امت مسلمہ لرز اٹھی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شدید صدمے میں تھے۔ بعض صحابہ کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر اور جری صحابی صدمے کی شدت سے تلوار لے کر کہہ رہے تھے کہ جو کوئی کہے گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے میں اس کی گردن اڑا دوں گا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ گونگے ہو گئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ غم کی شدت سے بیٹھے رہے پوری امت سکتے میں تھی اور کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرنا ہے
حضرت ابوبکر کا تاریخی اور ایمان افروز خطبہ
ایسے انتہائی نازک پریشان کن اور خطرناک وقت میں حضرت ابوبکر صدیق پہاڑ کی طرح مضبوط اور ثابت قدم کھڑے دکھائی دیے۔ آپ اس وقت مدینہ منورہ سے باہر تھے۔ جب خبر ملی تو فوراً واپس آئے اور سب سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر مبارک اٹھا کر پیشانی کو بوسہ دیا اور عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ زندگی میں بھی پاکیزہ تھے اور وفات کے بعد بھی پاکیزہ ہیں پھر آپ مسجد نبوی میں تشریف لائے اور ایک ایسا خطبہ دیا جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رہے گا
آپ نے فرمایا اے لوگو جو کوئی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کرتا تھا تو اسے معلوم ہو جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے اور جو کوئی اللہ کی عبادت کرتا ہے تو اللہ زندہ ہے اور کبھی فوت نہیں ہوگا پھر آپ نے قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ (محمد صرف ایک رسول ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے یہ خطبہ سن کر تمام صحابہ کرام کو سکون ملا اور انہیں احساس ہوا کہ اللہ کی عبادت اور دین کا کام جاری رکھنا ہے
خلافت کا تاریخی انتخاب
سقیفہ بنی ساعدہ کا اہم اجتماع
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ قیادت کا تھا۔ انصار اور مہاجرین نے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو کر خلافت کے بارے میں مشورہ کیا۔ شروع میں بحث ہوئی کہ خلیفہ کون ہو انصار چاہتے تھے کہ ان میں سے کوئی خلیفہ بنے اور مہاجرین چاہتے تھے کہ ان میں سے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر کی فضیلت اور مقام بیان کیا انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے قریبی ساتھی ہیں، غار ثور میں آپ کے ساتھ تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز کی امامت کا حکم دیا۔ طویل بحث و مباحثہ کے بعد سب نے متفقہ طور پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی، پھر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح نے اور پھر باقی تمام صحابہ کرام نے یکے بعد دیگرے بیعت کر لی
خلافت کی ذمہ داری قبول کرنا
حضرت ابوبکر صدیق نے خلافت قبول کرتے ہوئے ایک بے مثال تاریخی اور انتہائی عاجزی سے بھرا ہوا خطبہ دیا۔ آپ نے فرمایا اے لوگو مجھے تم پر خلیفہ بنایا گیا ہے حالانکہ میں تم میں سب سے بہتر نہیں ہوں۔ اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرنا اور اگر میں غلطی کروں تو مجھے ٹوک دینا اور سیدھا راستہ دکھانا سچائی امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے تم میں سے کمزور میری نظر میں طاقتور ہے یہاں تک کہ میں ان شاء اللہ اس کا حق دلا دوں اور تم میں سے طاقتور میری نظر میں کمزور ہے یہاں تک کہ میں ان شاء اللہ اس سے حق لے لوں جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کروں تم میری اطاعت کرنا اور اگر میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کروں تو میری اطاعت تم پر واجب نہیں یہ الفاظ حضرت ابوبکر کی عاجزی انصاف پسندی، ذمہ داری کا احساس اور اسلامی اصولوں کی پابندی کو ظاہر کرتے ہیں
خلافت کے ابتدائی چیلنجز اور مسائل
مختلف فتنوں کا ظہور
خلافت کا آغاز آسان نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے فوراً بعد کئی سنگین فتنے اور مسائل سر اٹھانے لگے جنہوں نے پوری امت مسلمہ کو خطرے میںڈال دیا پہلا بڑا مسئلہ زکوٰۃ سے انکار کا تھا۔ کئی عرب قبائل نے زکوٰۃ دینے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ ہم نماز پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے دوسرا بڑا فتنہ جھوٹے نبیوں کا تھا۔ مسیلمہ کذاب یمامہ میں اسود عنسی یمن میں طلیحہ بن خویلد نجد میں اور سجاح نامی عورت اپنے قبیلے میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر بیٹھے۔ تیسرا مسئلہ یہ تھا کہ کچھ قبائل نے کھلم کھلا بغاوت کا اعلان کر دیا اور اسلام سے مرتد ہونے لگے یہ سب فتنے ایک ساتھ سر اٹھا رہے تھے اور امت کے لیے بہت بڑا خطرہ بن گئے تھے
حضرت ابوبکر کا تاریخی اور حکیمانہ فیصلہ
جب بعض صحابہ کرام نے مشورہ دیا کہ زکوٰۃ کے معاملے میں کچھ نرمی کی جائے اور لوگوں کو وقت دیا جائے تو حضرت ابوبکر صدیق نے انتہائی سختی اور مضبوطی کے ساتھ واضح الفاظ میں فرمایا اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ زکوٰۃ کی ایک رسی کا ٹکڑا بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیتے تھے، تو میں ان سے اس پر ضرور جنگ کروں گا یہ فیصلہ امت مسلمہ کو مضبوطی دینے، دین کی حفاظت کرنے اور اسلامی احکام کو قائم رکھنے کے لیے بہت اہم اور تاریخی ثابت ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں کہا کہ میں نے دیکھا کہ اللہ نے ابوبکر کے سینے کو کھول دیا اور میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے
حضرت ابوبکر صدیق کی خصوصیات اور اوصاف
ایمان کی پختگی اور اللہ پر توکل
حضرت ابوبکر صدیق کا ایمان فولاد سے بھی زیادہ مضبوط اور پہاڑ سے زیادہ مستحکم تھا آپ نے کبھی کسی مشکل میں ہمت نہیں ہاری اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ اور توکل رکھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سب سے زیادہ ایمان لانے میں جلدی کرنے والے ابوبکر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کو بھی اسلام کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ ہچکچاہٹ دکھائی سوائے ابوبکر کے آپ کا ایمان اتنا پختہ تھا کہ آپ نے کبھی کسی معاملے میں شک نہیں کیا غار ثور میں جب دشمن قریب آ گئے تو آپ کا ایمان مزید مضبوط ہو گیا اور آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ مجھے اپنی جان کی فکر نہیں بلکہ آپ کی فکر ہے
قربانی کا عظیم جذبہ
حضرت ابوبکر صدیق نے اپنا سارا مال، دولت وقت اور ہر چیز اسلام کی راہ میں قربان کر دی۔ آپ نے غلاموں کو آزاد کرانے میں اپنی دولت خرچ کی جن میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں غزوہ تبوک کے موقع پر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مال لانے کی ترغیب دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر کا آدھا مال لایا اور سوچا کہ آج میں ابوبکر سے بڑھ جاؤں گا لیکن جب حضرت ابوبکر آئے تو وہ اپنے گھر کا سارا مال لے آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ابوبکر تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا انہوں نے جواب دیا میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس دن میں نے جان لیا کہ میں کبھی ابوبکر سے آگے نہیں بڑھ سکتا
نرم دل مگر مضبوط ارادہ
حضرت ابوبکر صدیق کا دل بہت نرم رحمدل اور خوف خدا سے لبریز تھا جب آپ قرآن کریم کی تلاوت کرتے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر سنتے تو آپ کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے لیکن جب دین کی بات آتی اسلام کی حفاظت کا معاملہ ہوتا یا حق و باطل کی جنگ ہوتی تو آپ کا ارادہ لوہے کی طرح مضبوط اور پہاڑ کی طرح اٹل ہو جاتا تھا مرتدین کے خلاف جنگ کے فیصلے میں آپ کی یہی مضبوطی دیکھنے کو ملی آپ کی شخصیت میں نرمی اور سختی کا حیرت انگیز توازن تھا
سیرت النبی سے رہنمائی اور تعلق
خلافت راشدہ اور حضرت ابوبکر صدیق کی زندگی کو سمجھنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سیرت کا مطالعہ بہت ضروری اور لازمی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی پوری زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کی روشنی میں گزاری اور آپ کے ہر قول و فعل کی پیروی کی آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کو اپنی زندگی کا مشن بنایا اور خلافت میں بھی انہی اصولوں پر عمل کیا۔ اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ کا تفصیلی جامع اور مکمل مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو سیرت النبی مکمل سیریز پارٹ 1 سے 20 تک ضرور پڑھیں
https://www.infopak21.com/p/blog-page.html
جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے لے کر وصال تک کا پورا سفر تفصیل سے بیان کیا گیا ہے صحابہ کرام کی زندگیوں کو سمجھنے کے لیے بھی سیرت النبی کا مطالعہ انتہائی ضروری ہے کیونکہ صحابہ نے اپنی زندگیاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں خلافت راشدہ کا دور دراصل سیرت نبوی کی عملی تشریح اور تفسیر ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشین گوئیاں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کئی بار حضرت ابوبکر کی فضیلت اور مقام کا ذکر فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا ابوبکر ہے ایک اور موقع پر فرمایا اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں سوائے ابوبکر کے دروازے کے یہ تمام باتیں اس طرف اشارہ تھیں کہ حضرت ابوبکر کو آنے والے وقت میں بہت بڑی ذمہ داری ملنے والی ہے
خلافت میں نبوی طریقہ کار کی پیروی
حضرت ابوبکر صدیق نے خلافت میں ہر معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور طریقہ کار کی پیروی کی آپ نے عدل و انصاف مساوات شوریٰ رحم و کرم اور تمام اسلامی اقدار کو قائم رکھا جب کوئی مسئلہ آتا تو آپ سب سے پہلے قرآن میں دیکھتے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں اور پھر صحابہ سے مشورہ کرتے آپ کی خلافت نبوی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی
خلاصہ
خلافت راشدہ کا آغاز حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مبارک خلافت سے ہوا یہ ایک ایسا تاریخی اور اہم دور تھا جب امت مسلمہ کو بہت بڑے سنگین اور خطرناک چیلنجز اور امتحانات کا سامنا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد مختلف فتنے سر اٹھا رہے تھے، کئی قبائل زکوٰۃ سے انکار کر رہے تھے جھوٹے نبی ظاہر ہو رہے تھے اور ارتداد کی لہر چل رہی تھی پوری امت کشمکش اور پریشانی میں تھی اور مستقبل غیر یقینی نظر آ رہا تھا ایسے انتہائی مشکل نازک اور خطرناک وقت میں حضرت ابوبکر صدیق نے بہت بڑی حکمت مضبوطی دانائی اور ایمانی قوت سے امت مسلمہ کی قیادت کی آپ نے دین کی حفاظت کو سب سے اہم قرار دیا اور کسی بھی قسم کی سمجھوتہ کاری سے انکار کر دیا آپ کا پختہ ایمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے پناہ محبت قربانی کا جذبہ سچائی امانت داری عدل و انصاف اور حکمت آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ اور رہنما اصول ہیں حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت نے ثابت کر دیا کہ اگر قیادت مخلص ایمان دار اور اصولوں پر قائم ہو تو کتنی بھی بڑی مشکلات کیوں نہ ہوں وہ حل ہو سکتی ہیں آپ کی دو سالہ خلافت نے اسلام کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیا اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا بہترین نمونہ فراہم کیے
مزید معلومات کے لیے یہ لنک بھی آپ پڑھ سکتے ہیں
https://www.urduweb.org/mehfil/threads/خلافت-راشدہ.127856/
اگلے حصے (پارٹ 2) میں ہم تفصیل سے بیان کریں گے کہ زکوٰۃ روکنے والے قبائل کے خلاف کیا فوجی اقدامات کیے گئے حروب الردہ کیسے لڑے گئے جھوٹے نبیوں خصوصاً مسیلمہ کذاب سے کس طرح نمٹا گیا اور حضرت ابوبکر صدیق نے کس حکمت اور دانائی سے یہ تمام خطرناک فتنے ختم کیے اور امت کو دوبارہ متحد کیا ان شاء اللہ اگلی قسط میں ہم حروب الردہ فتوحات اور اسلامی تاریخ کے اہم ترین واقعات کا مطالعہ کریں گے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں