فارس کی تین فوجوں کی شکست اور خالد بن ولید کا فیصلہ کن حملہ پارٹ 15
فارس کی تین فوجوں کا منصوبہ
فارس کی سلطنت کو جب یہ یقین ہو گیا کہ پہلے مرحلے میں شکست کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک منظم اور مضبوط اسلامی نظام کی علامت ہے تو دربار میں مسلسل مشاورت ہونے لگی فارس کے بادشاہ اور اس کے جرنیل اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر اب بھی مسلمان لشکر کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو پورا خطہ ہاتھ سے نکل جائے گا
![]() |
| فارس کی تین فوجوں کی شکست اور خالد بن ولید کا فیصلہ کن حملہ پارٹ 15 |
اسی سوچ کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک بہت بڑی فوج ایک ہی راستے سے بھیجنے کے بجائے تین الگ الگ فوجیں تیار کی جائیں ہر فوج پچیس ہزار سپاہیوں پر مشتمل ہو اور تین مختلف علاقوں سے چل کر ایک مقام پر جمع ہو جائے جب یہ تینوں فوجیں ایک جگہ اکٹھی ہوں گی تو ان کی مجموعی طاقت پچھتر ہزار بن جائے گی اور اس کے بعد اسلامی لشکر کا مقابلہ کرنا ان کے خیال میں آسان ہو جائے گا فارس کے جرنیل اس منصوبے کو حتمی فتح سمجھ رہے تھے اور انہیں پورا یقین تھا کہ اس بار خالد بن ولید کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا
حضرت خالد بن ولید کو خفیہ اطلاع
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سب سے بڑی طاقت صرف تلوار نہیں بلکہ بروقت خبر اور درست فیصلہ تھا اسلامی لشکر کے جاسوس مسلسل فارس کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی کہ فارس نے تین الگ الگ فوجیں تیار کر لی ہیں اور وہ مختلف راستوں سے روانہ ہو چکی ہیں یہ اطلاع فوراً خالد بن ولید تک پہنچا دی گئی آپ نے اس خبر کو معمولی نہیں سمجھا بلکہ فوراً لشکر کے اہم صحابہ کو جمع کیا اور مشورہ شروع کیا اس مشورے میں یہ بات واضح تھی کہ اگر تینوں فوجیں ایک جگہ جمع ہو گئیں تو پھر جنگ بہت مشکل ہو جائے گی اس لئے ضروری ہے کہ دشمن کو اکٹھا ہونے سے پہلے ہی توڑ دیا جائے
بروقت فیصلہ اور اسلامی لشکر کی تیاری
مشاورت کے بعد حضرت خالد بن ولید نے جو فیصلہ کیا وہ تاریخ کا رخ بدلنے والا ثابت ہوا آپ نے فرمایا کہ ہم دشمن کے انتظار میں نہیں بیٹھیں گے بلکہ ہم خود اس فوج کی طرف بڑھیں گے جو سب سے پہلے ہمارے قریب ہے تاکہ اسے راستے ہی میں ختم کر دیا جائے اس فیصلے کا مقصد یہی تھا کہ فارس کی باقی دو فوجوں کے حوصلے ٹوٹ جائیں اور انہیں اکٹھا ہونے کا موقع ہی نہ ملے یہ فیصلہ سنتے ہی پورے لشکر میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا ہر سپاہی جانتا تھا کہ یہ جنگ صرف تعداد کی نہیں بلکہ حکمت کی ہے
پہلی فارس فوج سے اچانک ٹکراؤ
اسلامی لشکر تیزی سے آگے بڑھا اور فارس کی پہلی پچیس ہزار کی فوج کو اس وقت جا لیا جب وہ ابھی مکمل طور پر جنگ کے لئے تیار بھی نہیں ہوئی تھی فارس کے جنرل کو یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں کا لشکر بہت بڑا ہے لیکن جب اس نے سامنے دیکھا تو اسے اسلامی لشکر تعداد میں کم محسوس ہوا یہی وہ لمحہ تھا جہاں اس نے مسلمانوں کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی حضرت خالد بن ولید نے اپنی اصل طاقت کو چھپا کر رکھا تھا آپ نے چار ہزار کے قریب ایک دستہ پیچھے ایک مناسب جگہ پر چھپا دیا اور انہیں ہدایت دی کہ میرے اشارے کے بغیر باہر نہ نکلنا
جنگ شروع ہونے سے پہلے حضرت خالد بن ولید نے فارس کے جنرل کو للکارا اور کہا کہ اگر تم خود کو طاقتور سمجھتے ہو تو آؤ آمنے سامنے مقابلہ کرو فارس کے جنرل نے خود آنے کے بجائے ایک مشہور پہلوان کو بھیجا جسے ہزار مرد کہا جاتا تھا یعنی وہ شخص جس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ ہزار آدمیوں کی طاقت رکھتا ہے لیکن چند ہی لمحوں میں حضرت خالد بن ولید نے اسے زمین پر گرا دیا اس منظر نے فارس کی فوج کے حوصلے توڑ دیئے
اچانک حملہ اور پہلی فوج کی شکست
جیسے ہی باقاعدہ جنگ شروع ہوئی کچھ دیر بعد حضرت خالد بن ولید نے محسوس کیا کہ میدان پھیل رہا ہے اور دشمن سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے اسی لمحے آپ نے پیچھے چھپے ہوئے اسلامی دستے کو اشارہ دیا وہ دستہ اچانک فارس کی فوج کے پیچھے سے نکل آیا اس حملے نے دشمن کو مکمل طور پر گھیر لیا آگے سے خالد بن ولید اور پیچھے سے اسلامی دستہ فارس کی فوج اس دو طرفہ حملے کو برداشت نہ کر سکی اور بہت ہی کم وقت میں پہلی فوج مکمل طور پر ختم ہو گئی
حضرت خالد بن ولید کی تلوار اور شخصیت
اس موقع پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت اور جسمانی طاقت کا ذکر کرنا ضروری ہے ان کی تلوار کے بارے میں ایک
دلچسپ معلومات آپ اس مضمون میں پڑھ سکتے ہیں https://hamariaawaz.com/13665/
یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ خالد بن ولید صرف ایک جنگجو نہیں بلکہ مکمل عسکری نظام تھے
دوسری فارس فوج کی پیش قدمی اور قیادت کا زوال
پہلی فارس فوج کی اچانک اور تیز شکست کی خبر ابھی پوری طرح پھیلی بھی نہ تھی کہ دوسری فارس فوج اسلامی لشکر کی سمت بڑھ رہی تھی اس فوج کو اس بات کا اندازہ ہی نہ تھا کہ ان سے پہلے آنے والی فوج مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے فارس کے سپاہیوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ اسلامی لشکر تعداد میں بہت کم ہے اور اصل طاقت ابھی باقی ہے اسی غرور کے ساتھ یہ فوج آگے بڑھتی رہی مگر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر لمحہ حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے آپ کے جاسوس پہلے ہی اطلاع دے چکے تھے کہ دوسری فوج کس راستے سے آئے گی اور کہاں قیام کرے گی اسی معلومات کی بنیاد پر اسلامی لشکر نے اپنی صف بندی کی اور دشمن کو سنبھلنے کا موقع دیے بغیر میدان کا رخ کر لیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آئے تو حضرت خالد بن ولید نے ایک بار پھر وہی نفسیاتی حکمت عملی اختیار کی جو پہلے مرحلے میں کامیاب ہو چکی تھی آپ نے فارس کے جنرل کو مقابلے کا پیغام بھیجا اور اسے دعوت دی کہ اگر وہ واقعی اپنی فوج کی طاقت پر یقین رکھتا ہے تو اکیلے میدان میں آئے فارس کے جنرل نے غرور میں آ کر یہ چیلنج قبول کیا مگر چند ہی لمحوں میں اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ کس درجہ کے سپہ سالار کے سامنے کھڑا ہے یہ مقابلہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور فارس کی قیادت ایک ہی وار میں ختم ہو گئی
قیادت کے خاتمے کے بعد فارس فوج کا بکھر جانا
اپنے جنرل کی موت کے بعد فارس کی دوسری فوج میں شدید افراتفری پھیل گئی کسی کو سمجھ نہ آ رہی تھی کہ اب حکم کس کا مانا جائے سپاہیوں کے دلوں میں خوف بیٹھ گیا اور نظم ٹوٹنے لگا حضرت خالد بن ولید نے اسی لمحے بھرپور حملے کا حکم دیا اسلامی لشکر نے مختلف سمتوں سے دباؤ بڑھایا جس سے فارس کی فوج کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا بہت سے سپاہی میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے اور باقی یا تو مارے گئے یا گرفتار ہو گئے اس طرح دوسری فارس فوج بھی بغیر کسی بڑے معرکے کے مکمل طور پر بے اثر ہو گئی
تیسری فارس فوج کا انتظار اور خالد بن ولید کا فیصلہ کن قدم
دوسری فوج کی شکست کے بعد کچھ صحابہ کی رائے تھی کہ اب تیسری فارس فوج کا انتظار کیا جائے کیونکہ ممکن تھا کہ وہ دونوں فوجوں کی تباہی کی خبر سن کر خود ہی واپس پلٹ جائے مگر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سوچ کو قبول نہ کیا آپ نے فرمایا کہ اگر تیسری فوج کو بروقت نہ روکا گیا تو وہ اپنی پوزیشن بدل سکتی ہے اس لیے بہتر یہی ہے کہ دشمن کو سوچنے کا موقع دیے بغیر اس کی طرف پیش قدمی کی جائے یہ فیصلہ وقتی نہیں بلکہ دور رس نتائج کا حامل تھا اور تمام لشکر نے اس پر اتفاق کیا اسلامی لشکر فوراً تیسری فارس فوج کی سمت روانہ ہو گیا یہ فوج ابھی مکمل طور پر تیار بھی نہ تھی اور اسے یقین تھا کہ باقی دونوں فوجیں اس کی پشت پر موجود ہیں حضرت خالد بن ولید نے ایک بار پھر علاقے کی جغرافیائی صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کیا اور ایسے مقام پر حملہ کیا جہاں دشمن نہ اپنی صفیں درست کر سکا نہ انتظار کر پایا
آخری فارس فوج کی شکست اور فارسی طاقت کا ٹوٹ جانا
تیسری فارس فوج کو جب اچانک اسلامی لشکر کا سامنا ہوا تو اس پر سکتہ طاری ہو گیا اس کے سپاہیوں کو اندازہ ہو گیا کہ حالات ان کے اندازوں کے برعکس ہیں قیادت کمزور تھی اور حوصلہ پہلے ہی متزلزل ہو چکا تھا حضرت خالد بن ولید نے اس کمزوری کو پہچانتے ہوئے مسلسل دباؤ کی حکمت عملی اپنائی اسلامی لشکر نے دشمن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور پھر فیصلہ کن حملہ کر دیا جس کے بعد یہ فوج بھی زیادہ دیر میدان میں نہ ٹھہر سکی اس طرح فارس کی تینوں فوجیں جو الگ الگ مقامات سے آ کر ایک جگہ جمع ہونا چاہتی تھیں ایک ایک کر کے ختم ہو گئیں اور فارسی سلطنت کی عسکری طاقت کو ایسا دھچکا لگا جس سے وہ کبھی پوری طرح سنبھل نہ سکی یہ مرحلہ ثابت کرتا ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اصل طاقت صرف تلوار نہیں بلکہ بروقت فیصلہ درست معلومات اور دشمن کی نفسیات کو سمجھنا تھا یہی وہ بنیاد تھی جس نے آگے چل کر خلافت راشدہ کے لیے مزید بڑی فتوحات کے دروازے کھول دیے
اگلے مرحلے کی تیاری
ان تینوں فوجوں کی شکست کے بعد فارس کی طاقت عملی طور پر ٹوٹ چکی تھی لیکن اسلامی لشکر کے لئے یہاں رکنا ممکن نہیں تھا اسی دوران مدینہ سے ایک اہم پیغام آنے والا تھا جو اس سلسلے کو ایک نئے رخ پر لے جائے گا
اگلے حصے پارٹ 16 میں کیا ہوگا
پارٹ 16 میں تفصیل سے بیان کیا جائے گا کہ مدینہ منورہ سے حضرت خالد بن ولید کو کون سا تاریخی خط ملا اس خط میں کس نئے محاذ کی طرف توجہ دلائی گئی اور کیسے اسلامی فتوحات کا رخ فارس سے ہٹ کر رومی سلطنت کی طرف موڑ دیا گیا یہ مرحلہ خلافت راشدہ کی تاریخ کا ایک اور عظیم موڑ ثابت ہوگا
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں