خلافت راشدہ: حضرت ابوبکر صدیق کا مضبوط فیصلہ اور فتنوں کا آغاز - پارٹ 2
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد امت مسلمہ پر جو مشکل اور پریشان کن وقت آیا وہ چند دنوں یا ہفتوں میں ختم نہیں ہوا بلکہ یہ بہت بڑی آزمائش پورے جزیرہ نما عرب میں پھیل چکی تھی۔ مسلمانوں کے دل کمزور تھے اور ہر طرف بے چینی اور پریشانی کا ماحول تھا
![]() |
| خلافت راشدہ: حضرت ابوبکر صدیق کا مضبوط فیصلہ اور فتنوں کا آغاز - پارٹ 2 |
لیکن ایسے نازک وقت میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پوری امت کے لیے مضبوط ستون اور سہارا بن کر کھڑے ہوئے۔ ان کی سوچ مضبوط تھی، ان کا دل اللہ تعالیٰ کے وعدے پر مکمل طور پر قائم تھا اور ان کے صحیح اور بروقت فیصلوں نے اسلام کو ٹوٹنے اور بکھرنے سے بچا لیا
زکوٰۃ روکنے والوں کے خلاف سخت فیصلہ
زکوٰۃ سے انکار کا فتنہ
خلافت کا آغاز ہوتے ہی سب سے پہلا اور بڑا مسئلہ وہ عرب قبائل تھے جنہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوٰۃ نہیں دیں گے۔ یہ قبائل سمجھتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد اب ان پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں رہی۔ انہوں نے سوچا کہ زکوٰۃ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذاتی حق تھا جو اب ختم ہو گیا ہے۔ یہ بہت خطرناک غلط فہمی تھی جو اسلام کے بنیادی ستون کو توڑ سکتی تھی۔ اگر یہ سوچ پھیل جاتی تو دین کا پورا نظام ختم ہو جاتا اور ہر شخص اپنی مرضی سے احکام چننے لگتا
حضرت ابوبکر کا تاریخی فیصلہ
جب حضرت ابوبکر صدیق کے سامنے یہ سنگین معاملہ پیش ہوا تو کچھ صحابہ کرام نے مشورہ دیا کہ ان مشکل حالات میں جنگ نہ کی جائے اور معاملے کو نرمی سے حل کیا جائے۔ لیکن حضرت ابوبکر صدیق نے بہت واضح اور مضبوط فیصلہ سناتے ہوئے فرمایا کہ اگر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اونٹ اور اس کے ساتھ رسی بھی زکوٰۃ میں دیتے تھے اور اب اونٹ تو دیں لیکن رسی روک لیں تو میں اس کے خلاف ضرور جہاد کروں گا۔ جو حق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ادا ہوتا تھا وہ اب بھی اسی طرح ادا ہوگا یہ فیصلہ بظاہر بہت سخت تھا مگر حقیقت میں یہی وہ قدم تھا جس نے اسلام کی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کیا اور امت کو متحد رکھا۔ اگر اس وقت یہ قبائل آزادی پا لیتے اور زکوٰۃ سے بچ جاتے تو پوری امت مسلمہ ٹکڑوں میں بٹ جاتی اور ہر علاقے میں الگ الگ قوانین بن جاتے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق نے کمزوری کو کوئی جگہ نہیں دی اور دین کے احکام کی پوری طاقت سے حفاظت کی
پچھلا حصہ خلافت راشدہ کا آغاز حضرت ابوبکر صدیق کا دور خلافت پارٹ 1 پڑھنے کے لیے یہ لنک دیکھیں۔https://www.infopak21.com/2025/11/1.html
جھوٹے نبیوں کا خطرناک فتنہ
نبوت کے جھوٹے دعویدار
اسی دوران دوسرا بڑا اور خطرناک فتنہ جھوٹے نبیوں کا سامنے آیا۔ کچھ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظیم کامیابی اور اثر و رسوخ دیکھ کر اپنے آپ کو بھی نبی کہنا شروع کر دیا اور قبائل کو گمراہ کرنے لگے۔ مسیلمہ کذاب یمامہ میں، طلیحہ بن خویلد نجد میں، اسود عنسی یمن میں اور کئی دوسرے لوگوں نے یہ نیا اور خطرناک فتنہ کھڑا کر دیا۔ انہوں نے اپنا الگ دین بنانا چاہا، کوئی کہتا تھا کہ میں بھی نبی ہوں، کوئی دعویٰ کرتا تھا کہ مجھ پر بھی وحی آتی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ کمزور ایمان والے لوگوں نے ان کی باتیں سن کر مان بھی لیں
ابوبکر صدیق کا مضبوط موقف
یہ وہ نازک وقت تھا جب مسلمانوں کا حوصلہ کمزور تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی کا صدمہ تازہ تھا اور دشمن اپنے قدم مضبوط کر رہے تھے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق نے بہت واضح اور سخت لہجے میں اعلان کیا کہ جھوٹے نبیوں کو کبھی بھی برداشت نہیں کیا جائے گا چاہے اس کے لیے پوری عرب کی سرزمین میں آگ ہی کیوں نہ لگ جائے۔ حق ہمیشہ ایک ہی ہے اور وہ نبوت کا دروازہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی دوسرے کے لیے کبھی نہیں کھل سکتا۔ آپ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا
اسامہ بن زید کی فوج کی روانگی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری حکم
تیسرا اور بہت اہم امتحان وہ فوج تھی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آخری بیماری سے پہلے شام کی سرحد کی طرف بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ اس فوج کے امیر نوجوان صحابی حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود منتخب فرمایا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کی وجہ سے اس فوج کی روانگی رک گئی تھی اور صحابہ کرام سوچ میں پڑ گئے تھے کہ اب کیا کرنا چاہیے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل سیرت جاننے کے لیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ ضرور کریں
https://ur.wikipedia.org/wiki/
مشکل حالات میں سخت فیصلہ
مدینہ منورہ کے اندر حالات بہت کمزور اور خطرناک تھے۔ دشمن باہر سے حملے کی تیاری کر رہے تھے، قبائل اندر سے بغاوت اور فتنہ پھیلا رہے تھے اور مسلمانوں کی تعداد بھی بہت کم تھی۔ ایسے نازک وقت میں کئی بڑے صحابہ کرام نے مشورہ دیا کہ اس فوج کی روانگی کو کچھ عرصے کے لیے روک دیا جائے تاکہ مدینہ منورہ کی حفاظت ہو سکے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق نے بہت صاف اور واضح الفاظ میں فرما دیا کہ جو حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیا ہے اسے میں دنیا کے کسی خوف یا خطرے کی وجہ سے نہیں روکوں گا۔ اگر مدینہ منورہ پر کتنی ہی مشکل کیوں نہ آئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حکم ضرور پورا ہوگا یہ فیصلہ ایمان کی مضبوطی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی سب سے روشن اور واضح مثال تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق نے سپہ سالار حضرت اسامہ بن زید کو ان کی مکمل فوج کے ساتھ جنگ کے لیے روانہ کیا
اسلامی جنگ کے اصول
جانے سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق نے سپہ سالار کو وہی ہدایات دیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ فرماتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بچے، عورت اور بوڑھے انسان پر ہاتھ نہیں اٹھانا، درختوں کو بھی بغیر کسی ضرورت کے نہیں کاٹنا، کسی عبادت گاہ کو نقصان نہیں پہنچانا اور کسی بے گناہ کو تکلیف نہیں دینا۔ یہ اسلامی جنگ کے وہ اصول تھے جو آج بھی دنیا کے لیے مثال ہیں جب یہ فوج روانہ ہوئی تو تمام عرب پر مسلمانوں کا رعب اور دبدبہ بیٹھ گیا۔ دشمنوں کو احساس ہو گیا کہ مسلمانوں کا خلیفہ کمزور نہیں ہے اور وہ اپنے فیصلوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتا۔ یہ فوج کامیابی سے واپس آئی اور اس کامیابی نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کر دیے
تینوں فتنوں کا مقابلہ
ان تین بڑے اور خطرناک فتنوں نے خلافت کے آغاز کو آزمائشوں سے بھر دیا تھا۔ زکوٰۃ سے انکار، جھوٹے نبیوں کا ظہور اور فوج کی روانگی کا مسئلہ، یہ تینوں ایک ساتھ آئے تھے۔ مگر حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے مضبوط ایمان، تقویٰ، دانائی اور عقل سے ہر طرف کے خطرات کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ ان کا انداز نرم بھی تھا اور ضرورت پڑنے پر بہت مضبوط بھی۔ انہوں نے کسی قبائلی دباؤ کو قبول نہیں کیا، کسی منافق کی باتوں پر کان نہیں دھرے اور نہ ہی کسی خوف کی وجہ سے اپنے فیصلوں کو بدلا
صحابہ کرام کی مدد اور حمایت
حضرت ابوبکر صدیق جانتے تھے کہ اگر اس نازک وقت میں امت بکھر گئی تو اسلام کا پورا نظام ختم ہو جائے گا اور دین کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ اس مشکل دور میں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی حضرت ابوبکر کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو گئے۔ سب نے دیکھا اور محسوس کیا کہ حضرت ابوبکر کا دل صرف اللہ تعالیٰ کے لیے دھڑکتا ہے اور ان کے تمام فیصلے امت کی بہتری اور اسلام کی بقا کے لیے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بعد میں کہا کہ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر کے سینے کو کھول دیا اور میں سمجھ گیا کہ یہی حق ہے اور یہی صحیح راستہ ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ابوبکر نے امت کو بکھرنے سے بچا لیا
قیادت کا سبق
یہ دور ہمیں بہت بڑا اور اہم سبق دیتا ہے کہ قیادت ہمیشہ مشکل وقت میں فیصلوں سے پہچانی جاتی ہے۔ کبھی کبھی حالات بہت مشکل اور خطرناک ہوتے ہیں مگر سچا اور ایمان دار انسان وہ ہوتا ہے جو خوف کی وجہ سے اپنا راستہ نہیں بدلتا بلکہ اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ رکھتا ہے اور حق پر ہمیشہ قائم رہتا ہے حضرت ابوبکر صدیق نے ثابت کر دیا کہ اصولوں پر سمجھوتہ کبھی نہیں کرنا چاہیے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے دکھا دیا کہ دین کے احکام ہر دور میں اور ہر حال میں قابل عمل ہیں
آنے والا حصہ
آنے والے حصے یعنی پارٹ 3 میں ہم تفصیل سے بیان کریں گے کہ جھوٹے نبیوں کے خلاف سب سے پہلا بڑا معرکہ کیسے شروع ہوا اور کس طرح حضرت ابوبکر صدیق نے مسلمانوں کی مختلف فوجیں الگ الگ سمتوں میں بھیج کر پورے جزیرہ نما عرب میں تمام فتنوں کو جڑ سے ختم کیا
اگلا حصہ پارٹ 3 بہت اہم اور دلچسپ ہوگا۔ اس میں ہم تفصیل سے بتائیں گے کہ جنگ یمامہ کیسے شروع ہوئی، مسیلمہ کذاب کے خلاف کیسے لڑا گیا، کس طرح مسلمان شہیدوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر دین کو محفوظ کیا اور اسلامی تاریخ کے لیے سب سے مشکل اور خون آلود دن کون سا تھا۔ ان شاء اللہ پارٹ 3 میں ملیں گے۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں