خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق کا مضبوط فیصلہ اور فتنوں کا آغاز پارٹ 2


 

خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق پارٹ 2

نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد امت پر جو مشکل وقت آیا وہ چند دنوں میں ختم نہیں ہوا بلکہ یہ آزمائش پورے جزیرہ عرب میں پھیل چکی تھی مسلمانوں کے دل کمزور تھے اور ہر طرف بے چینی تھی لیکن ایسے وقت میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پوری امت کے لیے سہارا بن کر کھڑے ہوئے ان کی سوچ مضبوط تھی ان کا دل اللہ کے وعدے پر قائم تھا اور ان کے فیصلوں نے اسلام کو ٹوٹنے سے بچایا 

خلافت کا آغاز ہوتے ہی سب سے پہلا مسئلہ وہ قبائل تھے جنہوں نے کہہ دیا کہ ہم نماز تو پڑھیں گے لیکن زکوة نہیں دیں گے وہ سمجھتے تھے کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اب ان پر زکوة لازم نہیں رہی حضرت ابو بکر کے سامنے یہ معاملہ آیا تو کچھ صحابہ نے کہا کہ ان حالات میں جنگ نہ کی جائے لیکن ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ رسول اللہﷺ کے دور میں اونٹ اور ساتھ رسی  دیتے تھے اب اونٹ دیں اور رسی روکیں گے تو میں اس کے خلاف جہاد کروں گا جو حق نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ادا ہوتا تھا وہ اب بھی ادا ہوگا

یہ فیصلہ بظاہر سخت تھا مگر یہی وہ قدم تھا جس نے اسلام کی بنیاد کو دوبارہ مضبوط کیا اگر اس وقت یہ قبائل آزادی پا لیتے تو پوری امت ٹکڑوں میں بٹ جاتی مگر ابو بکر صدیق نے کمزوری کو جگہ نہ دی

خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (پارٹ1) پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں

اسی دوران دوسرا بڑا فتنہ جھوٹے نبیوں کا تھا کچھ لوگوں نے  نبیﷺ کی عظیم کامیابی دیکھ کر اپنے آپ کو نبی کہنے لگے اور قبائل کو گمراہ کرنے لگے مسیلمہ کذاب طلیحہ اسود عنسی اور کئی اور لوگوں نے نیا فتنہ کھڑا کر دیا انہوں نے اپنا الگ دین بنانا چاہا کوئی کہتا تھا کہ میں بھی نبی ہوں کوئی کہتا تھا کہ مجھ پر بھی وحی آتی ہے اور کچھ لوگوں نے ان کی باتیں مان بھی لیں

یہ وہ وقت تھا جب مسلمانوں کا حوصلہ کمزور تھا اور دشمن اپنے قدم مضبوط کر رہے تھے مگر حضرت ابو بکر نے اعلان کیا کہ جھوٹے نبیوں کو کبھی برداشت نہیں کیا جائے گا چاہے پوری عرب سرزمین میں آگ کیوں نہ لگ جائے حق ہمیشہ ایک ہی ہے اور وہ نبی کریم ﷺ کے بعد کسی دوسرے کے لیے نہیں کھل سکتا

تیسرا اور بہت بڑا امتحان وہ فوج تھی جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیماری سے پہلے شام کی سرحد کی طرف بھیجنے کا حکم دیا تھا اس فوج کے امیر نوجوان اسامہ بن زید تھے

 رسول اللہ ﷺ نے خود انہیں منتخب کیا تھا لیکن آپ کے وصال کی وجہ سے فوج کی روانگی رک گئی

سیرت النبی حضرت محمد ﷺ پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں

مدینہ کے اندر حالات کمزور تھے دشمن باہر سے حملے کا سوچ رہے تھے قبائل اندر سے بغاوت کر رہے تھے ایسے وقت میں کئی لوگوں نے مشورہ دیا کہ اس فوج کی روانگی روک دی جائے مگر حضرت ابو بکر نے صاف فرما دیا کہ جو حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے اسے میں دنیا کے کسی خوف سے نہیں روکوں گا اگر مدینہ پر کتنی ہی مشکل آئے مگر رسول اللہ ﷺ کا حکم پورا ہوگا

یہ فیصلہ ایمان کی مضبوطی کی سب سے روشن مثال تھا حضرت ابو بکر نے سپہ سالار اسامہ بن زید کو اپنی فوج کے ساتھ جنگ کے لیے روانہ کیا اور جانے سے پہلے سپہ سالار کو ہدایت دی جسے رسول اللہﷺ فرماتے تھے کہ کسی بچے عورت اور بوڑھے  پر ہاتھ نہیں اٹھانا اور درختوں کو بھی بغیر کسی وجہ سے نہیں کاٹنا اور یہ فوج روانہ کرتے ہی تمام عرب پر رعب بیٹھ گیا کہ مسلمانوں کا خلیفہ کمزور نہیں وہ اپنے فیصلوں سے پیچھے نہیں ہٹتا

ان تین بڑے فتنوں نے خلافت کے آغاز کو آزمائشوں سے بھر دیا تھا مگر ابو بکر صدیق نے اپنے ایمان تقوی اور عقل سے ہر طرف کے خطرات کا مقابلہ کیا ان کا انداز نرم بھی تھا اور مضبوط بھی انہوں نے کسی قبائلی دباؤ کو قبول نہیں کیا انہوں نے کسی منافق کی بات پر کان نہیں دھرے وہ جانتے تھے کہ اگر اس وقت امت بکھر گئی تو اسلام کا نظام ختم ہو جائے گا اس مشکل دور میں صحابہ کرام بھی ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے سب نے دیکھا کہ ابو بکر کا دل اللہ کے لیے دھڑکتا ہے اور ان کے فیصلے امت کی بہتری کے لیے ہیں 

یہ دور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قیادت ہمیشہ فیصلوں سے پہچانی جاتی ہے کبھی کبھی حالات مشکل ہوتے ہیں مگر سچا انسان وہ ہوتا ہے جو ڈر کر اپنا راستہ نہ بدلے بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور حق پر قائم رہے

آنے والے حصے میں ہم تفصیل سے بیان کریں گے کہ جھوٹے نبیوں کے خلاف سب سے پہلا بڑا معرکہ کیسے شروع ہوا اور کس طرح حضرت ابو بکر نے مسلمانوں کی فوجیں الگ الگ سمتوں میں بھیج کر پورے عرب میں فتنوں کو ختم کیا

اگلا حصہ پارٹ 3 بہت اہم ہوگا اس میں ہم بتائیں گے کہ جنگ یمامہ کیسے شروع ہوئی کس طرح مسلمانوں نے قربانیوں سے دین کو محفوظ کیا اور اسلام کے لیے سب سے مشکل دن کون سا تھا

مزید معلومات کے لیے یہ لنک وزٹ کریں


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے