خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق جھوٹے نبی طلیحہ کا فتنہ اور حملے کی تیاریاں پارٹ 3



         جھوٹے نبی طلیحہ کا فتنہ اور حملے کی تیاریاں


نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد امت پر ایک کے بعد ایک آزمائش آ رہی تھی کہیں زکوة سے انکار ہو رہا تھا کہیں جھوٹے نبی اپنی آواز اٹھا رہے تھے اور کہیں قبائل بغاوت کی طرف مائل تھے مگر حضرت ابو بکر صدیق ہر امتحان کے سامنے فولاد کی طرح کھڑے تھے وہ جانتے تھے کہ اگر اس وقت امت کو سنبھال نہ لیا گیا تو اسلام کا نظام بکھر جائے گا

مسلیمہ کذاب کے بعد ایک اور بڑا فتنہ طلیحہ تھا جس نے خود کو نبی کہنے کا اعلان کیا تھا یہ شخص بہادر بھی تھا چالاک بھی اور اپنے قبیلے میں اثر رکھنے والا تھا بہت سے لوگ اس کے فریب میں آ گئے تھے اس نے اسلام کے خلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا تھا کبھی کہتا کہ اسے فرشتے نظر آتے ہیں کبھی کہتا کہ اسے وحی ملتی ہے اور کچھ لوگ اس کے جھوٹ پر یقین کرنے لگے تھے

اس زمانے میں صورتحال بہت نازک تھی ایک طرف زکوة نہ دینے والے قبائل تھے دوسری طرف مسلیمہ اور دیگر جھوٹے نبی فتنہ پھیلا رہے تھے مگر طلیحہ کا فتنہ خطرناک اس لیے تھا کہ وہ مدینہ کے قریب کے قبائل پر اثر ڈال سکتا تھا وہ جنگ میں بھی ماہر تھا اور اس کے پیروکار لڑائی سے نہیں گھبراتے تھے

اسی دوران ایک بڑی بات طلیحہ کو پتا چلی کہ مدینہ کی وہ فوج جو رسول اللہ ﷺ نے بھیجنے کا حکم دیا تھا وہ اسامہ بن زید کی قیادت میں رومی سرحد کی طرف روانہ ہو چکی ہے اس خبر نے طلیحہ کے دل میں ایک غلط خیال ڈال دیا اس نے کہا کہ اب مدینہ کمزور ہے اس کے پاس بڑی فوج نہیں رہی یہ وقت بہترین ہے کہ حملہ کیا جائے اور اسلام کو اپنی مرضی کے مطابق بدل دیا جائے

فتنہ پھیلانے والوں نے طلیحہ کے پاس آ کر کہا کہ مدینہ ابھی خالی ہے اگر تم حملہ کرو تو شاید تم کامیاب ہو جاؤ طلیحہ نے اسی وقت قبیلوں سے رابطے شروع کر دیے اس نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ کامیاب ہوگا اور بہت سے لوگ اس کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہونے لگے تھے

مگر ادھر مدینہ میں حضرت ابو بکر صدیق کو یہ خبر ملی تو انہوں نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا ان کا دل اللہ پر قائم تھا وہ جانتے تھے کہ اگر اس فتنہ کو نہ روکا گیا تو پورا علاقہ متاثر ہو جائے گا انہوں نے فوراً جانثار صحابہ کو بلایا اور فرمایا کہ اسلام کے دشمنوں کے سامنے کمزوری کی کوئی گنجائش نہیں دشمن سمجھ رہا ہے کہ مدینہ کمزور ہے مگر اسے پتہ بھی نہیں کہ ہمارا بھروسہ اللہ پر ہے نہ تعداد پر

ابو بکر صدیق نے نئی فوج تیار کرنا شروع کی اس فوج میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو ابھی پچھلی جنگوں سے لوٹے تھے کچھ لوگ زخمی تھے مگر ایمان کی آگ میں گرم تھے ابو بکر نے قبائل کے سرداروں کو بلایا انہیں صورتحال سمجھائی سب نے وعدہ کیا کہ وہ طلیحہ کے فتنہ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں

یہ وہ لمحے تھے جب مدینہ کی گلیوں میں ہلچل تھی نوجوان خوش نہیں تھے کہ دشمن نے ایسے وقت میں حملے کا ارادہ کیا ہے مگر ان کے دل مطمئن تھے کہ ابو بکر صدیق کی قیادت میں وہ کبھی شکست نہیں کھا سکتے کچھ صحابہ نے مشورہ دیا کہ پہلے صورتحال کا جائزہ لیا جائے اور جلدی فیصلہ نہ کیا جائے مگر ابو بکر نے فرمایا کہ فتنہ جب بڑھنے لگے تو اسے بڑھنے دینے میں نقصان ہے اس کے خلاف کھڑا ہونا ہی اصل طاقت ہے

اسی دوران طلیحہ نے اپنی افرادی قوت زیادہ کرنے کی کوشش کی وہ لوگوں کو یقین دلا رہا تھا کہ اس بار وہ اسلام پر غلبہ پا لے گا مگر اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ مدینہ اس کے خیال سے زیادہ مضبوط ہے اسلام صرف ایک شہر کا نام نہیں بلکہ ایک عقیدہ ہے اور اس عقیدہ کے لیے جان قربان کرنے والے ہزاروں موجود ہیں

سیرت النبی حضرت محمدﷺ پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں

ابو بکر صدیق نے جو فوج تیار کی اس کے لیے مکمل حکمت عملی بنائی گئی صحابہ کو الگ الگ سمتوں میں بھیجا گیا تاکہ طلیحہ کو راستے میں ہی روک لیا جائے وہ کسی بھی صورت مدینہ کے قریب نہ پہنچ سکے یہ فوج ایمان اور یقین سے بھری ہوئی تھی ہر سپاہی جانتا تھا کہ وہ دین کے تحفظ کے لیے لڑ رہا ہے وہ جانتا تھا کہ یہ جنگ صرف ایک دشمن کے خلاف نہیں بلکہ فتنے کے خلاف ہے

پارٹ 3 کا یہ حصہ ہمیں بتاتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہو جائیں سچی قیادت وہ ہوتی ہے جو ہمت نہ ہارے ابو بکر صدیق نے نہ صرف مدینہ کو منظم رکھا بلکہ دشمن کے ارادے کو بھی پہلے ہی بھانپ لیا اور اس کے مقابلے کی تیاری کر لی

آنے والے حصے یعنی پارٹ 4 میں ہم تفصیل سے بیان کریں گے کہ اس جنگ کا آغاز کیسے ہوا طلیحہ کے لشکر نے کیا منصوبہ بنایا مدینہ کی فوج نے کس طرح مقابلہ کیا اور اسلام کے لیے کس نے اپنی جانیں پیش کیں اگلا حصہ اور بھی زیادہ اہم اور دلچسپ ہوگا ان واقعات میں اسلام کی پہلی بڑی فتوحات چھپی ہوئی ہیں اور ایمان کی وہ مثالیں بھی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی

خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (پارٹ1) پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں

خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ (پارٹ2) پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے