جھوٹے نبی طلیحہ کے خلاف جنگ پارٹ 4
جھوٹے نبی طلیحہ کا فتنہ صرف ایک معمولی بغاوت نہیں تھا بلکہ یہ وہ آزمائش تھی جس نے پورے جزیرہ عرب کو ہلا کر رکھ دیا تھا اس حصے میں ہم اس شخص کی پوری حقیقت اس کے پس منظر اس کی چالوں جنگ کے حالات اور اس کے انجام تک سب کچھ بیان کریں گے تاکہ یہ بات واضح رہے کہ اللہ نے ہمیشہ باطل کو رسوا کیا ہے اور ایمان والوں کو سربلندی دی ہے
طلیحہ کا نام طلیحہ بن خویلد تھا اور اس کا تعلق قبیلہ بنی اسد سے تھا یہ وہی قبیلہ تھا جو جنگ و جدال میں مشہور تھا بہادری اس میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی اور اس قبیلے کے لوگ میدان میں ڈٹ جانے کی شہرت رکھتے تھے طلیحہ بھی ان ہی میں سے ایک تھا اس کی طبیعت میں خود پسندی بھی تھی اور اس کے دل میں قیادت کی خواہش ہمیشہ سے موجود تھی اسی خواہش نے اسے ایک ایسے راستے پر ڈال دیا جہاں سے واپسی صرف اللہ کی توفیق سے ممکن ہوئی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں طلیحہ نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ اسے فرشتے نظر آتے ہیں پھر اس نے دعوی کیا کہ اسے وحی آتی ہے لوگوں میں اس کی تھوڑی بہت شہرت پہلے سے تھی پھر بہادری کی وجہ سے کچھ لوگ اس کے پیچھے جمع ہونے لگے اس نے لوگوں کو یقین دلایا کہ وہ بھی اللہ کا نبی ہے اور اس کے پاس طاقت بھی ہے اور مدد بھی بہت سے لوگ اس فریب میں آ گئے کیونکہ اس وقت قبائل میں بے چینی اور انتشار کی کیفیت تھی
طلیحہ نے اپنے قبیلے بنی اسد کے ساتھ ساتھ طے وغیرہ جیسے قریب کے قبیلے بھی اپنی طرف مائل کیے اس نے ان قبائل سے کہا کہ مسلمانوں نے تم پر بوجھ ڈال دیا ہے زکوة دینا مشکل ہے اور میں تمہیں آزادی دوں گا اس طرح اس نے نفاق کو بڑھایا فتنہ پیدا کیا اور عام لوگوں کے دلوں میں بغاوت ڈالنے لگا اس نے اپنی بڑائی کے ایسے ایسے دعوے کیے کہ سیدھے سادھے لوگ بھی بہکنے لگے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب امت پر بیک وقت کئی آزمائشیں آ گئیں تو طلیحہ نے سمجھا کہ یہ وقت اس کے لیے بہت بڑا موقع ہے وہ کہنے لگا کہ اب مدینہ کمزور ہے اسامہ بن زید کی فوج باہر گئی ہے دفاع کم ہے اور اب وہ چاہے تو پورے علاقے پر قبضہ کر سکتا ہے یہی خیال اس کے اندر غرور بن کر اٹھا اسی لیے اس نے حملے کی تیاری شروع کر دی اور اپنے ماننے والوں کو لڑائی کے لیے تیار کرنے لگا
مگر ادھر مدینہ میں حضرت ابو بکر صدیق کے دل میں اللہ نے نور ڈال رکھا تھا وہ جانتے تھے کہ فتنے کو جڑ پکڑنے دینا اصل خطرہ ہے جیسے ہی انہیں خبر ملی کہ طلیحہ حملے کی سوچ رہا ہے انہوں نے فورا تیاری شروع کر دی انہوں نے قبائل کے سردار بلائے انہیں حالات سے آگاہ کیا سب نے وعدہ کیا کہ وہ اسلام کی حفاظت کے لیے کھڑے رہیں گے پھر ابو بکر صدیق نے ایک مضبوط لشکر تیار کیا جس میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو پہلے ہی لڑ کر آئے تھے
طلیحہ نے جنگ کے لیے مقام بزاخہ کا انتخاب کیا یہ جگہ اس کے علاقے کے قریب تھی وہاں اس نے اپنا بڑا پڑاؤ بنایا تھا اس کے پیچھے عورتیں بچے اور قبائل کے سردار بھی موجود تھے تاکہ لوگ بھاگ نہ سکیں اسے یقین تھا کہ وہ اس جنگ میں فتح حاصل کر لے گا اور پھر مدینہ کی طرف بڑھ جائے گا مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ کے سامنے کوئی چال نہیں چل سکتی
اسلامی لشکر نے بزاخہ کی طرف پیش قدمی کی تو طلیحہ نے اپنے لوگوں کو جوش دلایا وہ کہتا تھا کہ فرشتہ میرے ساتھ ہے اور مجھے فتح کی خبر دے رہا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اس کے اندر خود فریبی کے سوا کچھ نہیں تھا جب دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو لڑائی بہت سخت ہوئی طلیحہ کے ماننے والے پوری طاقت سے لڑ رہے تھے لیکن مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کا نور تھا وہ جانتے تھے کہ وہ دین کی حفاظت کے لیے لڑ رہے ہیں
مسلمانوں کی صفوں میں بڑے بڑے بہادر صحابہ شامل تھے وہ آگے بڑھ کر دشمن کی صفیں توڑ رہے تھے کچھ ہی دیر میں طلیحہ کے لشکر میں کمزوری نظر آنے لگی اس کے پیروکار پریشان ہوئے کیونکہ طلیحہ نے انہیں بہت بلند دعوے سنائے تھے مگر میدان میں ان کا کوئی اثر نظر نہیں آ رہا تھا طلیحہ خود بھی گھبرا گیا اس نے دیکھا کہ اس کی قوت ٹوٹ رہی ہے تو وہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلا اس نے شکست تسلیم نہیں کی بلکہ فرار کو بہتر سمجھا اس کے بھاگتے ہی اس کا لشکر بکھر گیا اور جنگ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہو گیا
طلیحہ جنگ کے بعد شام کی طرف بھاگ گیا وہ کچھ عرصہ وہاں رہا مگر اس کے دل پر بھاری بوجھ تھا باطل جتنا بھی مضبوط ہو جائے آخرکار وہ سچائی کے سامنے ہار جاتا ہے طلیحہ نے اپنی غلطیوں کو سمجھنا شروع کیا اس نے سوچا کہ وہ کس راستے پر چل پڑا تھا وہ جان گیا کہ وہ نبی نہیں ہو سکتا اور اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے آخرکار اللہ نے اس کے دل کو بدل دیا وہ مدینہ آیا اور اسلام قبول کیا مسلمانوں نے اس کے اسلام کو قبول کیا کیونکہ شریعت نے توبہ کی گنجائش رکھی ہے
طلیحہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا پورا راستہ بدل دیا وہ پہلے جس دلیری کو غلط کاموں میں استعمال کرتا تھا اب اسی دلیری کو اللہ کی راہ میں لگانے لگا پھر وہ جہاد میں شامل ہوتا رہا اور اللہ کی راہ میں جان قربان کر کے شہید ہوا اس کا انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ کی طرف پلٹنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا اور توبہ کرنے والے کو اللہ ہمیشہ قبول کرتا ہے
بزاخہ کی یہ جنگ فتنہ ارتداد کی بڑی لڑائیوں میں سے ایک تھی اگر ابو بکر صدیق بروقت تیاری نہ کرتے اگر وہ امت کو متحد نہ رکھتے تو شاید یہ فتنہ اور پھیل جاتا مگر ان کی قیادت نے اسلام کو ایک بار پھر مضبوط کر دیا اسی لیے تاریخ گواہ ہے کہ ثابت قدمی ہمیشہ کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے
سیرت النبی حضرت محمد ﷺ مکمل سیریز (پارٹ1) سے (پارٹ20) پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں
پارٹ 5 اس سے بھی زیادہ اہم ہوگا اس میں ہم دیکھیں گے کہ جب اسلامی فوجیں رومن کے بہت سے علاقوں کو فتح کر کے واپس مدینہ پہنچیں تو ابو بکر صدیق نے سب سے بڑے دشمن مسلیمہ کذاب کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی تیاری شروع کی وہ جنگ جس میں اسلام کی تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ ہوا اور بہت سے صحابہ نے اپنی جانیں قربان کیں
پارٹ 5 ان تمام حالات کو بیان کرے گا تیار رہیے کیونکہ وہ حصہ اسلام کی سب سے بڑی قربانیوں اور پہلی عظیم فتح کی طرف لے جاتا ہے
خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت (پارٹ1) پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں
خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت (پارٹ2) پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں
خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دور خلافت (پارٹ3) پڑھنے کے لیے یہ لنک وزٹ کریں

0 تبصرے