مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابو بکر کی فیصلہ کن تیاری پارٹ 5

اسلامی ریاست کو درپیش سب سے بڑا بحران

رسول اللہ ﷺ کے وصال کے فوراً بعد اسلامی معاشرہ ایک شدید آزمائش میں داخل ہو گیا نئے مسلمان قبائل ابھی دین کی گہرائی کو مکمل طور پر نہیں سمجھ پائے تھے کچھ لوگ اسلام کو صرف وقتی معاہدہ سمجھتے تھے 
مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابو بکر کی فیصلہ کن تیاری پارٹ 5
مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابو بکر کی فیصلہ کن تیاری پارٹ 5

جبکہ کچھ قبائل نے طاقت کمزور ہوتے ہی بغاوت کا راستہ اختیار کر لیا یہ وہ لمحہ تھا جب اسلام کو اندرونی خطرات نے گھیر لیا اگر اس وقت مضبوط اور بااصول قیادت سامنے نہ آتی تو اسلامی ریاست بکھر سکتی تھی

حضرت ابو بکر صدیق کی خلافت اور تاریخی ذمہ داری

حضرت ابو بکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالتے وقت کسی آسان دور میں قدم نہیں رکھا ان کے سامنے بیک وقت کئی خطرات تھے مرتد قبائل زکوۃ سے انکار اور جھوٹے نبیوں کا فتنہ اس کے باوجود آپ نے خوف یا مصلحت کو فیصلہ سازی پر حاوی نہیں ہونے دیا آپ نے صاف اعلان کیا کہ دین میں کسی قسم کی ملاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی یہی اعلان بعد میں اسلامی استحکام کی بنیاد بنا

مسیلمہ کذاب کا پس منظر

مسیلمہ کا تعلق یمامہ کے علاقے سے تھا وہ ابتدا میں خود کو اسلام کا پیروکار ظاہر کرتا رہا مگر بعد میں اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا اس نے اپنے قبیلے کی طاقت اور تعداد کو بنیاد بنا کر لوگوں کو گمراہ کیا وہ اسلام کے بنیادی احکامات میں نرمی کا لالچ دیتا جس سے کمزور ایمان رکھنے والے اس کے گرد جمع ہونے لگے یہ فتنہ صرف عقیدے تک محدود نہیں تھا بلکہ ریاستی بغاوت کی شکل اختیار کر چکا تھا 

مسیلمہ کے گمراہ کن نظریات

مسیلمہ نے عبادات میں کمی کو دین کی آسانی قرار دیا وہ زکوۃ کو غیر ضروری بوجھ کہتا لوگوں کو دنیاوی فائدے دکھا کر اپنے ساتھ ملاتا یہ سب دراصل اسلام کی روح کے خلاف تھا کیونکہ اسلام قربانی اور اطاعت کا درس دیتا ہے حضرت ابو بکر نے اس فریب کو فوراً پہچان لیا

حضرت ابو بکر کی فیصلہ کن سوچ

حضرت ابو بکرؓ نے حالات کو وقتی مسئلہ نہیں سمجھا انہوں نے جان لیا کہ اگر آج مسیلمہ کو نظر انداز کیا گیا تو کل ہر قبیلہ اپنا نبی کھڑا کر دے گا اسی لیے انہوں نے سخت مگر درست راستہ اختیار کیا آپ نے فرمایا کہ نبوت محمد ﷺ پر ختم ہو چکی اور جو اس کے خلاف کھڑا ہو گا وہ دین کا دشمن ہو گا یہی سوچ آپ کی تیاریوں کی بنیاد بنی

لشکر کی تیاری کا آغاز

اسلامی لشکر کی تیاری محض ہتھیار جمع کرنے تک محدود نہیں تھی سب سے پہلے سپاہیوں کے ایمان کو مضبوط کیا گیا انہیں بتایا گیا کہ یہ جنگ مال یا زمین کے لیے نہیں بلکہ اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے ہے ہر سپاہی کو نظم و ضبط اور اطاعت کی تلقین کی گئی یہی روحانی تیاری بعد میں میدان جنگ میں فیصلہ کن ثابت ہوئی

قیادت کا مضبوط انتخاب

حضرت ابو بکر نے اس مہم کے لیے حضرت خالد بن ولیدؓ کا انتخاب کیا یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا حضرت خالد بن ولید جنگی حکمت عملی میں بہت مہارت رکھتے تھے وہ دشمن کی نفسیات کو سمجھنے میں بھی ماہر تھے حضرت ابو بکر کو یقین تھا کہ اس فتنہ کو صرف مضبوط قیادت ہی ختم کر سکتی ہے

طلیحہ کے فتنہ سے حاصل ہونے والا سبق

مسیلمہ سے پہلے طلیحہ اسدی نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اس فتنے کے خلاف کارروائی نے کئی اہم اسباق دیے سب سے بڑا سبق یہ تھا کہ بروقت فیصلہ نہ ہو تو فتنہ پھیل جاتا ہے طلیحہ کے انجام کی مکمل تفصیل اس پوسٹ میں موجود ہے خلافت راشدہ حضرت ابو بکر صدیق جھوٹے نبی طلیحہ کا فتنہ جنگ اور انجام پارٹ 4 

        https://www.infopak21.com/2025/11/4.html  

 حضرت ابو بکر نے انہی تجربات کی روشنی میں مسیلمہ کے خلاف حکمت عملی بنائی

یمامہ کی طرف لشکر کی روانگی

جب تیاری مکمل ہو گئی تو اسلامی لشکر یمامہ کی طرف روانہ ہوا یہ سفر محض فوجی پیش قدمی نہیں تھا بلکہ حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کن مرحلہ تھا مسیلمہ اپنی تعداد اور قلعہ بند علاقے پر نازاں تھا جبکہ مسلمان اپنے ایمان اور قیادت پر یقین رکھتے تھے یہی فرق آنے والے وقت میں نمایاں ہوا

خلافت راشدہ کی اصل روح

خلافت راشدہ صرف حکومت کا نام نہیں یہ عدل دیانت اور جواب دہی کا نظام تھا حضرت ابو بکر کی قیادت اس کی روشن مثال ہے انہوں نے ذاتی نرمی کے باوجود دین کے معاملے میں سختی اختیار کی یہی توازن ایک مثالی حکمران کی پہچان ہے خلافت راشدہ کی خصوصیات پر مستند معلومات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں https://mawdudicentury.com           

حضرت ابو بکر کی قیادت کا تاریخی اثر

آپ کے فیصلوں نے امت کو واضح پیغام دیا کہ اسلام کسی مصلحت کا نام نہیں بلکہ حق پر ڈٹ جانے کا نام ہے کمزور ایمان رکھنے والوں کو بھی یہ احساس ہوا کہ دین کے ساتھ کھڑا ہونا ہی اصل کامیابی ہے حضرت ابو بکر کی یہی استقامت بعد میں اسلامی فتوحات کا سبب بنی

مسیلمہ کے خلاف تیاری کی اہمیت

اگر اس مرحلے پر کمزوری دکھائی جاتی تو اسلام کے اندر دراڑیں پڑ جاتیں ہر قبیلہ اپنی الگ تشریح لے آتا مگر حضرت ابو بکر نے امت کو ایک مرکز پر جمع رکھا یہ تیاری دراصل اسلام کی بقا کی ضمانت بن گئی مسیلمہ کذاب کے خلاف حضرت ابو بکر کی تیاری تاریخ اسلام کا باب ہے یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل وقت میں اصولوں پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے حضرت ابو بکر نے ثابت کیا کہ سچی قیادت تعداد نہیں کردار سے پہچانی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا دور رہنمائی کا روشن مینار سمجھا جاتا ہے

 اختتام 

اس پوسٹ میں ہم نے یمامہ کی مکمل تیاری اور مسیلمہ کی گمراہی کو بیان کیا ہے اگلی پوسٹ یعنی پارٹ 6 میں ہم یمامہ کی اصل جنگ بیان کریں گے وہ جنگ جس میں اسلام کے سیکڑوں قاری شہید ہوئے حضرت ثابت بن قیس جیسے بہادروں نے جام شہادت پیا اور خالد بن ولید نے تاریخ کی سب سے بڑی اور سب سے سخت لڑائی لڑی پارٹ 6 اس عظیم معرکے کا پورا احوال ہوگا تیار رہیے یہ وہ جنگ ہے جس نے فتنہ ارتداد کا سب سے مضبوط ستون ہمیشہ کے لیے گرا دیا تھا


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

2025 میں موبائل سے پیسے کمانے کے 5 بہترین طریقے – گھر بیٹھے آن لائن انکم کریں

ایزی پیسہ ڈیبٹ کارڈ کے فوائد،بنانے کا طریقہ استعمال اور اے ٹی ایم چارجز کی مکمل معلومات

"WhatsApp سے پیسے کیسے کمائیں؟ مکمل گائیڈ