حضرت ابوبکر کی وفات اور حضرت عمر کی خلافت کا آغاز اور فارس کا خطرہ پارٹ 18
اسلامی تاریخ میں ایک ایسا لمحہ آیا جب مدینہ منورہ میں خلافت کی قیادت ایک عظیم شخصیت سے دوسری عظیم شخصیت کی طرف منتقل ہوئی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز اسلامی تاریخ کا ایک نہایت اہم موڑ تھا یہ وہ وقت تھا جب اسلامی لشکر شام کے میدانوں میں رومی سلطنت کے خلاف جنگوں میں مصروف تھا اور انہیں یہ خبر تک نہیں تھی کہ مدینہ منورہ میں کیا کچھ ہو رہا ہے
![]() |
| حضرت ابوبکر کی وفات اور حضرت عمر کی خلافت کا آغاز اور فارس کا خطرہ پارٹ 18 |
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی کے آخری لمحات میں امت مسلمہ کی فکر کرتے ہوئے اپنے بعد خلافت کے لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا تھا یہ فیصلہ نہایت دانشمندی اور دوراندیشی پر مبنی تھا کیونکہ اس وقت اسلامی ریاست کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن قائد کی ضرورت تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو یہ اندازہ تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو اس نازک وقت میں امت کی رہنمائی کے لیے ضروری ہیں ان کی سخت مزاجی، عدل و انصاف کی پابندی اور اسلام سے بے پناہ محبت نے انہیں خلافت کے لیے بہترین انتخاب بنایا
اسلامی لشکر کا رومی سپر پاور سے پہلا مقابلہ تاریخی جنگ پارٹ 17
https://www.infopak21.com/2026/01/islami-lashkar-ka-roomi-super-power-se-pehla-muqabla-part-17.html
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کا واقعہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تقریباً دو سال اور تین ماہ خلافت کی ذمہ داریاں نبھائیں 13 ہجری میں جب ان کی طبیعت خراب ہوئی تو انہیں اپنی موت کا احساس ہو گیا اس وقت شام میں اسلامی لشکر رومیوں کے خلاف جنگوں میں مصروف تھا اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور دیگر عظیم سپہ سالار اسلام کی فتح کے لیے جدوجہد کر رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی بیماری کے دوران امت کے مستقبل کی فکر کی اور صحابہ کرام سے مشورہ کیا انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے تحریری وصیت تیار کروائی جمادی الآخر 13 ہجری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفات پائی ان کی عمر اس وقت تریسٹھ سال تھی، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت کی عمر کے برابر تھی۔ پورا مدینہ منورہ غم میں ڈوب گیا اور صحابہ کرام رو رہے تھے کہ ایک اور عظیم شخصیت دنیا سے رخصت ہو گئی
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیسے ہوا
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی وصیت میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین نامزد کیا تھا یہ فیصلہ انہوں نے تنہا نہیں کیا بلکہ صحابہ کرام کے ساتھ مشورے کے بعد کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور ان سے کہا گیا کہ وہ وصیت لکھیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لکھوایا کہ میں تمہارے لیے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کرتا ہوں اس کے بعد تمام صحابہ کرام کو جمع کیا گیا اور ان کے سامنے یہ وصیت پڑھی گئی سب نے اس فیصلے پر اتفاق کیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کیا۔ یہ اسلامی تاریخ میں خلافت کی منتقلی کا پہلا منظم طریقہ تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ ذمہ داری قبول کی اور امت کی خدمت کا عہد کیا
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تدفین
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو مسجد نبوی میں حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب دفن کیا گیا ان کا سر مبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے برابر رکھا گیا یہ مقام آج بھی مسجد نبوی میں روضہ رسول کے اندر موجود ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تدفین کے وقت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبدالرحمن نے قبر میں اتارا پورے مدینہ منورہ میں غم کا سماں تھا اور مسلمان اپنے پہلے خلیفہ کی جدائی پر رو رہے تھے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی اپنا پہلا خطبہ دیا اس خطبے میں انہوں نے اپنے اصولوں کا اعلان کیا اور امت کو یقین دلایا کہ وہ انصاف اور حق کی بنیاد پر حکومت کریں گے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے تمہارے معاملات کا ذمہ دار بنایا ہے میں تمہارے ساتھ وہی برتاؤ کروں گا جو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ کمزور میرے نزدیک اس وقت تک طاقتور ہے جب تک میں اس کا حق دلا نہ دوں اور طاقتور میرے نزدیک اس وقت تک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق نہ لے لوں یہ خطبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف پر مبنی نظام حکومت کی بنیاد بنا انہوں نے واضح کر دیا کہ ان کی خلافت میں کسی کو کوئی مراعات نہیں ملیں گی اور سب کے لیے قانون یکساں ہوگا
امیر المومنین کا لقب
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو امیر المومنین کا لقب ملنے کی ایک دلچسپ تاریخ ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفۃ رسول اللہ کہا جاتا تھا یعنی رسول اللہ کا خلیفہ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو لوگ انہیں خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ کہنے لگے یعنی رسول اللہ کے خلیفہ کے خلیفہ یہ لقب بہت طویل تھا اور آئندہ خلفاء کے لیے یہ لقب مزید طویل ہو جاتا چنانچہ صحابہ کرام نے مشورہ کیا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو امیر المومنین یعنی مومنوں کے امیر کا لقب دیا گیا یہ لقب نہایت مناسب تھا کیونکہ یہ خلیفہ کی حیثیت کو واضح کرتا تھا۔ یہ لقب اتنا مقبول ہوا کہ اسلامی تاریخ میں ہر خلیفہ کو امیر المومنین کہا جانے لگا
https://ur.wikipedia.org/wiki/
اسلامی لشکر کو خط کا ارسال
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالتے ہی سب سے پہلے شام میں موجود اسلامی لشکر کو خط لکھا یہ خط نہایت اہم تھا کیونکہ اسلامی لشکر ابھی تک یہ نہیں جانتا تھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات ہو چکی ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خط میں لکھا کہ خلیفۃ رسول اللہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے وفات پائی ہے اور انہوں نے اپنی وصیت میں مجھے خلیفہ مقرر کیا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے امت کی ذمہ داری سونپی ہے آپ جہاد میں مصروف رہیں اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھیں اللہ تعالیٰ آپ کو فتح عطا فرمائے اس خط میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو حوصلہ دیا اور انہیں یقین دلایا کہ نئی قیادت کے تحت بھی جہاد جاری رہے گا
خط میں مجاہدین کے لیے ہدایات
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خط میں کئی اہم ہدایات بھی دیں انہوں نے لکھا کہ مجاہدین اپنی جگہ پر قائم رہیں اور دشمن سے لڑائی جاری رکھیں کسی بھی حالت میں پیچھے نہ ہٹیں اور دشمن کو کوئی موقع نہ دیں نماز اور دیگر عبادات کا خاص خیال رکھیں کیونکہ فتح اللہ کی مدد سے آتی ہے عوام کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور کسی پر ظلم نہ کریں جنگی قیدیوں کے ساتھ اسلامی اصولوں کے مطابق برتاؤ کریں مال غنیمت کی تقسیم منصفانہ طریقے سے کریں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بھی لکھا کہ وہ جلد ہی مزید کمک بھیجیں گے اور ضرورت پڑنے پر خود بھی میدان جنگ میں آ سکتے ہیں
شام میں خبر پہنچنے پر اسلامی لشکر کا ردعمل
جب یہ خط شام میں پہنچا تو اسلامی لشکر پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر سن کر تمام مجاہدین رونے لگے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور دیگر سپہ سالاروں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہیں یاد آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کتنی محنت اور دانشمندی سے ان لشکروں کو تیار کیا تھا اور کس طرح انہوں نے مرتدین کا خاتمہ کر کے اسلامی ریاست کو مضبوط کیا تھا لیکن یہ مجاہد اللہ کے سچے بندے تھے انہوں نے غم کے باوجود اپنا عزم مضبوط رکھا حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے لشکر کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اللہ کی مشیت ہے ہر شخص کو موت آنی ہے لیکن اسلام باقی رہے گا
مجاہدین کا عزم اور حوصلہ
اسلامی لشکر کے مجاہدین نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے باوجود ہمت نہیں ہاری بلکہ انہوں نے یہ عہد کیا کہ وہ اپنے پہلے خلیفہ کی یاد میں مزید محنت اور جانفشانی سے جہاد جاری رکھیں گے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قیادت نے انہیں نیا حوصلہ دیا مجاہدین جانتے تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مضبوط اور فیصلہ کن رہنما ہیں جو ان کی ہر ضرورت کا خیال رکھیں گے شام میں رومیوں کے خلاف جنگیں جاری رہیں اور اب فارس کے خلاف نیا محاذ کھلنے والا تھا مسلمانوں کا ایمان ان کی طاقت تھا اور وہ جانتے تھے کہ اللہ کی مدد سے وہ ہر دشمن کو شکست دے سکتے ہیں
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی اہم اصلاحات
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالتے ہی کئی اہم اصلاحات کا آغاز کیا انہوں نے سب سے پہلے انتظامی نظام کو بہتر بنایا اور مختلف محکموں کی تشکیل کی بیت المال کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا جہاں مال غنیمت اور زکوٰۃ کی رقوم جمع کی جاتی تھیں عدالتی نظام کو مضبوط بنایا اور قاضیوں کی تقرری کی پولیس کا محکمہ قائم کیا جو امن و امان کی ذمہ دار تھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ بھی حکم دیا کہ تمام گورنروں اور عہدیداروں کو سادہ زندگی گزارنی ہوگی اور عوام کی خدمت کرنی ہوگی انہوں نے خود بھی انتہائی سادہ زندگی گزاری اور اپنے لیے کوئی مراعات نہیں لیں ان کی خلافت میں عدل و انصاف کی ایسی مثال قائم ہوئی جو تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی
لشکر کی تعیناتیوں میں تبدیلیاں
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کچھ اہم فیصلے بھی کیے انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو فوج کا سپہ سالار اعظم کے عہدے سے ہٹا کر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی یہ فیصلہ انہوں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قابلیت میں کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کیا کہ وہ چاہتے تھے کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ فتحیں صرف ایک شخص کی وجہ سے ہوتی ہیں بلکہ یہ اللہ کی مدد سے ہوتی ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو بخوشی قبول کیا اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی ماتحتی میں جہاد جاری رکھا یہ صحابہ کرام کی عظمت تھی کہ انہیں عہدوں کی کوئی خواہش نہیں تھی
فارس کی طرف سے نیا خطرہ
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو شام کے محاذ کے ساتھ ساتھ فارس کی طرف سے بھی خطرہ بڑھنے لگا فارسی سلطنت نے دیکھا کہ اسلامی لشکر شام میں رومیوں کے خلاف کامیاب ہو رہا ہے تو انہیں اندیشہ ہوا کہ اگلا نشانہ وہ بن سکتے ہیں اس لیے فارسیوں نے بڑے پیمانے پر فوج جمع کرنا شروع کر دی۔ یزدگرد سوم جو فارس کا بادشاہ تھا نے اپنے سپہ سالاروں کو حکم دیا کہ وہ عراق اور ایران کے علاقوں میں فوجیں جمع کریں اور مسلمانوں کے خلاف حملے کی تیاری کریں فارسی سلطنت اس وقت دنیا کی عظیم طاقتوں میں سے ایک تھی اور ان کی فوج بہت طاقتور تھی ان کے پاس ہاتھی گھوڑے اور جدید ہتھیار تھے فارسیوں کا خیال تھا کہ وہ آسانی سے مسلمانوں کو شکست دے دیں گے
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جوابی تیاریاں
جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو فارس کی تیاریوں کی اطلاع ملی تو انہوں نے فوری طور پر اقدامات شروع کر دیے انہوں نے مدینہ منورہ میں اعلان کیا کہ جو لوگ جہاد میں شرکت کرنا چاہتے ہیں وہ تیار ہو جائیں مدینہ منورہ اور اردگرد کے علاقوں سے ہزاروں مسلمان جہاد کے لیے تیار ہو گئے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے نئے لشکر کو منظم کیا اور تربیت کا انتظام کیا انہوں نے ہتھیاروں اور رسد کی فراہمی کا بندوبست کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خود بھی میدان جنگ میں جانے کے خواہشمند تھے لیکن صحابہ کرام نے مشورہ دیا کہ خلیفہ کا مدینہ میں رہنا ضروری ہے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عراق کے محاذ کا کمانڈر مقرر کیا
اسلامی تاریخ کے اس اہم دور میں خلافت کی منتقلی نے ثابت کیا کہ اسلامی نظام مضبوط بنیادوں پر قائم ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دانشمندانہ منصوبہ بندی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مضبوط قیادت نے اسلامی ریاست کو مزید مضبوط بنا دیا دونوں محاذوں پر اسلامی لشکر کا عزم بلند تھا اور مجاہدین اپنے نئے خلیفہ کی رہنمائی میں دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار تھے
اگلے پارٹ میں کیا ہوگا
اسلامی تاریخ کا ایک اور اہم باب شروع ہونے والا ہے پارٹ19 میں آپ پڑھیں گے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فارسی سلطنت کے خلاف کیسے تیاریاں کیں مدینہ منورہ سے نیا لشکر کیسے روانہ ہوا حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عراق کے محاذ کی کمانڈ ملی فارسی بادشاہ یزدگرد سوم نے کتنی بڑی فوج جمع کی اور مسلمانوں اور فارسیوں کے درمیان پہلا بڑا مقابلہ کہاں ہوا یہ سب کچھ جاننے کے لیے پارٹ 19 ضرور پڑھیں
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں