اسلامی لشکر کا رومی سپر پاور سے پہلا مقابلہ تاریخی جنگ پارٹ 17
فارس کی فتوحات کے بعد اسلامی لشکر ایک نئے اور زیادہ خطرناک محاذ کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا یہ وہ وقت تھا جب مسلمان پہلی بار دنیا کی عظیم ترین سلطنت رومی ایمپائر کے خلاف میدان جنگ میں اترنے والے تھے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں اسلامی لشکر نے صحرائے عرب کا مشکل سفر طے کر کے شام کی سرحد میں قدم رکھا تھا لیکن جب وہ شام پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ دوسری مسلم افواج پہلے سے ہی رومیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں اور حالات بہت نازک ہیں
![]() |
| اسلامی لشکر کا رومی سپر پاور سے پہلا مقابلہ تاریخی جنگ پارٹ 17 |
اس حصے میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ شام میں پہلے سے موجود اسلامی لشکر کیا حالات کا سامنا کر رہا تھا حضرت خالد بن ولید نے کیسے صورتحال کو سنبھالا اور رومی سپر پاور کے خلاف پہلی جنگ کیسے لڑی گئی یہ وہ دور تھا جب خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید بیمار تھے اور اسلامی ریاست ایک نازک موڑ پر کھڑی تھی اس کے باوجود مسلمانوں کا حوصلہ بلند تھا اور ان کا یقین پختہ تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرمائے گا
گزشتہ پارٹ 16 میں فارس سے شام تک کا تاریخی سفر پڑھیں
شام میں پہلے سے موجود اسلامی لشکر کی حالت
مختلف سرداروں کی افواج
جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو وہاں پہلے سے ہی مسلمان افواج موجود تھیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف سرداروں کی قیادت میں بھیجی تھیں ان میں حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی افواج شامل تھیں ہر فوج الگ الگ علاقے میں تعینات تھی اور مقامی سطح پر رومی فوجوں سے نبرد آزما تھی لیکن رومی سلطنت نے جب یہ دیکھا کہ مسلمان شام میں داخل ہو رہے ہیں تو اس نے اپنی تمام طاقت مسلمانوں کو کچلنے کے لیے جمع کر لی رومی بادشاہ ہرقل نے بڑی تعداد میں فوجیں بھیجیں جن کے پاس جدید ترین ہتھیار بہترین تربیت اور لاکھوں کی تعداد میں جنگجو تھے مسلمان افواج تعداد میں بہت کم تھیں اور مختلف جگہوں پر بکھری ہوئی تھیں ان کے پاس نہ زیادہ سازوسامان تھا نہ رومیوں جیسی تعداد حالات اتنے مشکل ہو گئے تھے کہ مسلمان سرداروں نے مدینہ منورہ کو پیغام بھیجا کہ فوری مدد کی ضرورت ہے یہی وجہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت خالد بن ولید کو فارس کے محاذ سے شام بلایا تھا
حضرت ابوبکر صدیق کی بیماری
جس وقت شام میں یہ حالات تھے اسی دوران مدینہ منورہ میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ شدید بیمار ہو گئے آپ نے اسلامی ریاست کو دو سال سے زیادہ عرصے تک نہایت حکمت اور دانشمندی سے چلایا تھا آپ کے دور میں عرب کے تمام قبائل جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بغاوت پر اتر آئے تھے انہیں شکست دی گئی اور اسلامی ریاست کو مستحکم کیا گیا آپ نے ہی فارس اور روم کے خلاف مہمات کا آغاز کیا تھا لیکن اب آپ کی طبیعت بہت خراب تھی اور صحابہ کرام کو اندیشہ تھا کہ شاید آپ کا آخری وقت قریب آ رہا ہے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیماری کے باوجود اسلامی لشکروں کی خبر لیتے رہتے تھے اور ہدایات بھیجتے رہتے تھے آپ کو خاص طور پر شام کے محاذ کی فکر تھی کیونکہ وہاں رومی سلطنت جیسی بڑی طاقت کا مقابلہ تھا آپ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بھی اسلامی ریاست کے مستقبل کے بارے میں سوچا اور اہم فیصلے کیے صحابہ کرام آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ سے مشورے لیتے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بھی علم تھا کہ اگر ان کی وفات ہو گئی تو اگلا خلیفہ کون ہونا چاہیے تاکہ اسلامی ریاست میں کوئی انتشار نہ پھیلے
رومی سلطنت کی تاریخ اور طاقت کے بارے میں تفصیل
https://www.britannica.com/place/Byzantine-Empire
حضرت خالد بن ولید کی شام میں آمد
جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے لشکر کے ساتھ شام پہنچے تو انہوں نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیا۔ آپ نے دیکھا کہ مسلمان افواج مختلف جگہوں پر بکھری ہوئی ہیں اور ہر ایک اپنے علاقے میں رومیوں سے لڑ رہی ہے حضرت خالد بن ولید نے سمجھ لیا کہ اگر اسی طرح بکھری ہوئی رہیں تو رومی انہیں ایک ایک کر کے ختم کر دیں گے آپ نے فوری طور پر تمام مسلمان سرداروں کو پیغام بھیجا کہ اپنی افواج کے ساتھ ایک جگہ جمع ہو جائیں یہ فیصلہ بہت اہم تھا کیونکہ متحد ہو کر ہی رومیوں کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا تمام مسلمان سردار حضرت خالد بن ولید کی قیادت اور تجربے کو جانتے تھے اس لیے انہوں نے فوری طور پر آپ کی ہدایات پر عمل کیا چند دنوں میں تمام مسلمان افواج ایک جگہ جمع ہو گئیں اور حضرت خالد بن ولید نے انہیں منظم کرنا شروع کر دیا آپ نے ہر فوج کو ایک خاص ذمہ داری دی اور مجموعی حکمت عملی بنائی مسلمانوں کی کل تعداد تقریباً چوبیس سے تیس ہزار کے درمیان تھی جبکہ رومی فوج ایک لاکھ سے زیادہ تھی لیکن حضرت خالد بن ولید کو اعداد و شمار کی کوئی پرواہ نہیں تھی آپ کو یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے مٹھی بھر مسلمان بھی بڑی سے بڑی طاقت کو شکست دے سکتے ہیں۔
جنگ کی تیاری اور میدان کا انتخاب
میدان جنگ کی حکمت عملی
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب سے پہلے میدان جنگ کا انتخاب کیا آپ نے ایسی جگہ منتخب کی جہاں رومی فوج کی بڑی تعداد ان کے لیے فائدہ مند نہ ہو یہ ایک کھلا میدان تھا لیکن اس کے ایک طرف پہاڑی سلسلہ تھا اور دوسری طرف ایک وادی اس طرح رومی اپنی پوری فوج کو ایک ساتھ استعمال نہیں کر سکتے تھے حضرت خالد بن ولید نے اسلامی لشکر کو اس طرح صف بندی کی کہ ان کی کمزور جگہیں محفوظ ہو گئیں۔ آپ نے گھڑ سواروں کو دونوں طرف رکھا پیدل سپاہیوں کو بیچ میں اور تیر اندازوں کو پیچھے خواتین اور بچوں کو سب سے پیچھے محفوظ جگہ پر رکھا گیا حضرت خالد بن ولید نے تمام سپاہیوں کو جمع کر کے ایک زبردست تقریر کی آپ نے انہیں یاد دلایا کہ ہم اللہ کے دین کی خاطر لڑ رہے ہیں اور ہماری جیت یا شہادت دونوں کامیابی ہیں آپ نے فرمایا کہ رومی فوج تعداد میں زیادہ ہے لیکن ان کے دل خوف سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ ہمارے دل ایمان اور یقین سے معمور ہیں اس تقریر نے مسلمانوں میں نیا جوش اور ولولہ پیدا کر دیا ہر شخص جنگ کے لیے تیار تھا اور موت سے نہیں ڈرتا تھا
رومی فوج کی تیاریاں
رومی بادشاہ ہرقل نے اپنے بہترین جنرلوں کو مسلمانوں کے خلاف بھیجا تھا ان کی فوج میں نہ صرف رومی بلکہ مختلف علاقوں سے لائے گئے جنگجو بھی شامل تھے۔ ان کے پاس بہترین ہتھیار زرہیں، تلواریں اور نیزے تھے ان کے گھوڑے تربیت یافتہ تھے اور ان کی صفیں بہت منظم تھیں رومی جنرل نے جب مسلمانوں کی چھوٹی سی فوج دیکھی تو اسے یقین ہو گیا کہ یہ جنگ آسانی سے جیت جائے گی اس نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ یہ عرب کے صحرائی لوگ ہیں جن کے پاس نہ مناسب ہتھیار ہیں نہ تربیت۔ ہم انہیں جلد ہی شکست دے کر واپس بھیج دیں گے لیکن رومی جنرل کو یہ نہیں معلوم تھا کہ مسلمانوں کے پاس ایسی چیز ہے جو کسی ہتھیار سے زیادہ طاقتور ہے اور وہ ہے ایمان اور اللہ پر یقین رومی فوج نے اپنی صف بندی کی اور میدان جنگ میں اتر آئی۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ میدان بھر گیا۔ سورج کی روشنی میں ان کی زرہیں اور ہتھیار چمک رہے تھے اور دیکھنے والوں کو خوف محسوس ہو رہا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے چہروں پر کوئی خوف نہیں تھا بلکہ عزم اور یقین تھا
جنگ کا آغاز اور حضرت خالد بن ولید کی حکمت عملی
رومیوں کا پہلا حملہ
جنگ کا آغاز رومی فوج نے کیا انہوں نے اپنے تیر اندازوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں پر تیروں کی بارش کر دیں ہزاروں تیر مسلمانوں کی طرف آئے لیکن مسلمانوں نے اپنی ڈھالوں سے بچاؤ کیا پھر رومی گھڑ سواروں نے حملہ کیا یہ بہت خطرناک لمحہ تھا کیونکہ رومی گھڑ سوار بہت طاقتور تھے لیکن حضرت خالد بن ولید نے پہلے سے ہی اس کی تیاری کی ہوئی تھی آپ نے اپنے گھڑ سواروں کو حکم دیا کہ وہ رومی گھڑ سواروں کو دونوں طرف سے گھیر لیں۔ یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور رومی گھڑ سوار الجھ گئے پھر مسلمان پیدل سپاہیوں نے آگے بڑھ کر رومیوں پر شدید حملہ کیا۔ دونوں فوجوں میں سخت جنگ ہوئی حضرت خالد بن ولید خود میدان جنگ میں موجود تھے اور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے۔ آپ کی تلوار سے کئی رومی جنگجو مارے گئے۔ مسلمان سپاہی اتنی بہادری سے لڑ رہے تھے کہ رومی حیران رہ گئے۔ حضرت خالد بن ولید نے جنگ کے دوران کئی بار اپنی حکمت عملی بدلی اور رومیوں کو مخمصے میں ڈال دیا۔ جب رومی ایک طرف سے حملہ کرتے تو مسلمان دوسری طرف سے جواب دیتے یہ جنگ کئی گھنٹے جاری رہی اور دونوں طرف سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے
رومی سلطنت کی فوجی تنظیم کے بارے میں مزید معلومات
https://www.worldhistory.org/Roman_Army
مسلمانوں کی ثابت قدمی اور رومیوں کی پسپائی
جنگ جوں جوں آگے بڑھتی گئی رومی فوج کو احساس ہونے لگا کہ یہ عام لوگ نہیں ہیں یہ ایسے جنگجو ہیں جو موت سے نہیں ڈرتے اور جنہیں اپنی جان سے زیادہ اپنے دین کی فکر ہے مسلمان سپاہی زخمی ہونے کے باوجود لڑتے رہتے اور پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ بہت سے صحابہ کرام نے شہادت کا رتبہ حاصل کیا لیکن میدان نہیں چھوڑا حضرت خالد بن ولید کی قیادت اور حکمت عملی نے رومیوں کو پریشان کر دیا جب رومی جنرل نے دیکھا کہ اس کی فوج کو نقصان ہو رہا ہے اور مسلمان پیچھے نہیں ہٹ رہے تو اس نے اپنی فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا یہ پہلی بار تھا کہ رومی فوج کو میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا پڑا مسلمانوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنے شہداء کو دفن کیا اس جنگ میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی لیکن ان کا عزم اور یقین رومیوں سے کہیں زیادہ تھا یہ ایک چھوٹی سی جنگ تھی لیکن اس نے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان رومی سپر پاور کا مقابلہ کر سکتے ہیں
جنگ کے بعد کے حالات
اس جنگ کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلامی لشکر کو مزید منظم کیا آپ نے جانتے تھے کہ یہ صرف ایک چھوٹا سا مقابلہ ہے اور آگے بہت بڑی جنگیں لڑنی ہیں رومی بادشاہ ہرقل کو جب اس شکست کی خبر ملی تو وہ غصے سے بھر گیا۔ اس نے مزید بڑی فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کیا ادھر مدینہ منورہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طبیعت مزید خراب ہو رہی تھی صحابہ کرام کو اندیشہ تھا کہ آپ کا وقت قریب آ رہا ہے لیکن حضرت ابوبکر صدیق کو شام سے فتح کی خبر ملی تو آپ بہت خوش ہوئے۔ آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور دعا کی کہ اللہ مسلمانوں کو مزید کامیابیاں عطا فرمائے یہ وہ آخری خوشخبری تھی جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی میں سنی
آخر میں چند اہم باتیں
یہ جنگ اسلامی تاریخ میں ایک اہم موڑ تھی پہلی بار مسلمانوں نے رومی سپر پاور کو یہ پیغام دیا کہ وہ ڈرنے والے نہیں ہیں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت اور حکمت عملی نے ثابت کیا کہ تعداد سے زیادہ اہم ایمان، یقین اور صحیح حکمت عملی ہے اسلامی لشکر کی ثابت قدمی اور جرات نے رومیوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دیا لیکن یہ صرف شروعات تھی۔ آگے بہت بڑی جنگیں لڑنی تھیں اور اسلامی ریاست میں بھی بڑی تبدیلی آنے والی تھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کا وقت قریب تھا اور نیا خلیفہ کون ہوگا یہ سوال اہم تھا شام میں رومی مزید بڑی فوجیں بھیجنے کی تیاری کر رہے تھے اور مسلمانوں کو ان کا مقابلہ کرنا تھا
اگلے حصے پارٹ 18 میں کیا ہوگا
پارٹ 18 میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کیسے ہوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کیسے خلیفہ بنے اور ان کی خلافت کا آغاز کیسے ہوا ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ شام میں رومیوں نے کیسے مزید بڑی فوجیں بھیجیں اور مسلمانوں نے کیسے ان کا مقابلہ کیا یہ وہ دور ہوگا جو اسلامی تاریخ کے سب سے اہم ادوار میں سے ایک ہے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں