اسلامی لشکر فارس فتح کر کے رومی سلطنت کی طرف تاریخی سفر پارٹ 16

فارس کی تینوں فوجوں کی شکست کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسلامی لشکر کا حوصلہ عروج پر تھا مسلمانوں نے ثابت کر دیا تھا کہ تعداد میں کم ہونے کے باوجود ایمان، حکمت عملی اور صحیح قیادت کے ساتھ کوئی بھی طاقت ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی
اسلامی لشکر فارس فتح کر کے رومی سلطنت کی طرف تاریخی سفر پارٹ 16
اسلامی لشکر فارس فتح کر کے رومی سلطنت کی طرف تاریخی سفر پارٹ 16

 اسلامی لشکر فارسی سرحدوں میں مزید آگے بڑھنے کی تیاری کر رہا تھا اور صحابہ کرام کا جذبہ اپنے عروج پر تھا۔ لیکن اسی دوران ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے پوری جنگی صورتحال کو بدل کر رکھ دیا اور اسلامی فتوحات کا رخ ایک نئے محاذ کی طرف موڑ دیا یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جس نے نہ صرف حضرت خالد بن ولید کی زندگی میں نیا موڑ لایا بلکہ پوری اسلامی دنیا کی تاریخ کو نیا رخ دیا۔ اس حصے میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ مدینہ منورہ سے کیا پیغام آیا اس کا مقصد کیا تھا اور حضرت خالد بن ولید نے کیسے اس نئے چیلنج کو قبول کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسلام کو دنیا کی سب سے بڑی سلطنت رومی ایمپائر کا سامنا کرنا تھا۔
گزشتہ پارٹ 15 میں فارس کی تین فوجوں کی شکست کی تفصیل یہاں پڑھیں

رومی سلطنت کون تھی اور اس کی طاقت

دنیا کی عظیم ترین سلطنت

رومی سلطنت یا بازنطینی ایمپائر اس وقت دنیا کی دو عظیم ترین طاقتوں میں سے ایک تھی۔ یہ سلطنت یورپ افریقہ اور ایشیا کے بڑے حصوں پر محیط تھی اور اس کا دارالحکومت قسطنطنیہ دنیا کے امیر ترین شہروں میں شمار ہوتا تھا رومی فوج دنیا کی سب سے منظم اور طاقتور فوج تھی جس کے پاس جدید ترین ہتھیار بہترین تربیت یافتہ سپاہی اور لاکھوں کی تعداد میں جنگجو موجود تھے۔ اس سلطنت کا بادشاہ ہرقل ایک تجربہ کار اور ہوشیار حکمران تھا جو اپنی فوج کی طاقت پر بہت فخر کرتا تھا رومی سلطنت صدیوں سے دنیا کے بڑے حصے پر حکمرانی کر رہی تھی اور اس کے خلاف کوئی بھی طاقت کھڑی ہونے کی جرات نہیں کرتی تھی دنیا کی دوسری عظیم طاقت فارسی سلطنت تھی اور یہ دونوں سلطنتیں سات سو سال سے ایک دوسرے کی دشمن تھیں ان دونوں عظیم طاقتوں کے درمیان لگاتار جنگیں ہوتی رہیں اور دنیا کا توازن انہی دو سلطنتوں کے درمیان تقسیم تھا۔ مسلمانوں کے علاوہ کسی کی جرات نہیں تھی کہ ان دونوں میں سے کسی کا بھی مقابلہ کر سکے۔

قرآن مجید میں سورہ روم کا ذکر

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ روم نازل فرمائی جس میں رومیوں اور فارسیوں کے درمیان جنگ کا ذکر ہے۔ اس سورہ میں اللہ تعالٰی نے واضح فرمایا تھا کہ رومی پہلے شکست کھائیں گے اور پھر چند سالوں میں دوبارہ فتح حاصل کریں گے۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا تھا جیسے اللہ نے فرمایا تھا۔ اس سورہ کا نزول اس وقت ہوا جب مسلمان مکہ میں انتہائی کمزور حالت میں تھے اور کفار مکہ ان پر ظلم ڈھا رہے تھے۔ اللہ تعالٰی نے اس سورہ میں مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ جس طرح رومی اپنی شکست کے بعد دوبارہ کامیاب ہوں گے اسی طرح مسلمان بھی ایک دن غالب آئیں گے۔ یہ قرآنی پیشین گوئی اللہ کی قدرت کا واضح ثبوت تھی اور مسلمانوں کے لیے حوصلے کا باعث بنی۔ اب وہ وقت آ گیا تھا جب مسلمان خود اسی رومی سلطنت کے سامنے کھڑے ہونے والے تھے جس کا ذکر قرآن میں ہوا تھا
بازنطینی سلطنت کی تاریخ اور طاقت کے بارے میں جاننے کے لیے یہ لنک بھی آپ پڑھ سکتے ہیں 

فارس اور روم کی سات سو سالہ دشمنی اور اتحاد

دو دشمنوں کی تاریخی دشمنی

فارسی سلطنت اور رومی سلطنت سات سو سال سے ایک دوسرے کے خلاف جنگیں لڑ رہی تھیں یہ دونوں سلطنتیں دنیا کی عظیم ترین طاقتیں تھیں اور دونوں ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی رہیں کبھی رومی فتح حاصل کرتے تو کبھی فارسی۔ ان کی جنگوں میں لاکھوں لوگ مارے جاتے اور بڑے بڑے شہر تباہ ہوتے رہے بیت المقدس جیسے مقدس شہر بھی ان دونوں سلطنتوں کے درمیان ہاتھ بدلتے رہے دنیا کی سیاست اور معیشت ان دونوں سلطنتوں کے درمیان جنگوں سے متاثر ہوتی رہی۔ ہر ایک اپنے آپ کو ناقابل شکست سمجھتا تھا اور دونوں کو یقین تھا کہ دنیا پر صرف ان کی حکومت ہونی چاہیے۔ لیکن جب اسلام کا ظہور ہوا اور مسلمانوں نے فارس کو شکست دینی شروع کی تو دونوں سلطنتوں کو ایک نیا خطرہ نظر آنے لگا۔ انہیں احساس ہونے لگا کہ یہ نئی طاقت دونوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے

مشترکہ دشمن کے خلاف اتحاد

جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فارس کو متواتر شکستیں دینا شروع کیں تو رومی بادشاہ ہرقل کو فکر ہونے لگی۔ اس نے دیکھا کہ فارسی سلطنت جو سات سو سال سے ان کی برابری کی طاقت تھی مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کھا رہی ہے ہرقل سمجھ گیا کہ اگر مسلمان فارس کو مکمل طور پر فتح کر لیں تو اگلا نشانہ رومی سلطنت ہوگی اس لیے پہلی بار تاریخ میں ایسا ہوا کہ دونوں دشمن سلطنتوں نے ایک مشترکہ دشمن کے خلاف ہاتھ ملا لیا فارسیوں نے رومیوں سے مدد مانگی اور رومیوں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کو روکنا ضروری ہے ورنہ دونوں سلطنتیں خطرے میں پڑ جائیں گی اسی لیے جب شام میں حالات خراب ہونے لگے تو رومی سلطنت نے اپنی پوری طاقت سے مسلمانوں کو کچلنے کا فیصلہ کیا اور فارسیوں نے بھی اپنی حمایت کا اعلان کیا یہ پہلی بار تھا کہ دنیا کی دونوں عظیم طاقتوں نے مل کر ایک چھوٹی سی طاقت کے خلاف محاذ بنایا تھا

مدینہ منورہ سے خلیفہ کا تاریخی خط

خط کی آمد اور اس کا پس منظر

فارس کے محاذ پر فتوحات کے دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک خاص قاصد کے ذریعے مدینہ منورہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خط موصول ہوا یہ کوئی عام خط نہیں تھا بلکہ ایک انتہائی اہم اور تاریخی حکم نامہ تھا جس میں اسلامی لشکر کی سمت تبدیل کرنے کا فیصلہ تھا۔ خط میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ اب فارس کے محاذ کو عارضی طور پر روک کر رومی سلطنت کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ شام کے علاقے میں رومی فوجیں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر تیاریاں کر رہی ہیں۔ اس وقت شام میں مسلمان افواج رومی طاقت کے سامنے مشکل حالات کا سامنا کر رہی تھیں اور خلیفہ وقت کو یہ احساس تھا کہ اگر فوری طور پر کوئی مضبوط حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو حالات مسلمانوں کے خلاف ہو سکتے ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خط میں حضرت خالد بن ولید کو واضح ہدایت دی کہ وہ فوری طور پر شام کی طرف کوچ کریں اور وہاں کی مسلم افواج کی مدد کو پہنچیں۔ یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر لیا گیا تھا کیونکہ رومی سلطنت اس وقت دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک تھی اور اس کا مقابلہ کرنا فارس سے بھی زیادہ مشکل تھا

خط کا مواد اور خلیفہ کی دانشمندی

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس خط میں نہ صرف حکم تھا بلکہ ایک واضح حکمت عملی بھی بیان کی گئی تھی۔ آپ نے لکھا کہ فارس کا محاذ اہم ہے لیکن اس وقت شام کا محاذ زیادہ نازک ہے کیونکہ رومی بادشاہ ہرقل نے بڑی تعداد میں فوجیں جمع کر لی ہیں اور وہ اسلام کو ختم کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ خلیفہ نے یہ بھی واضح کیا کہ حضرت خالد بن ولید کی موجودگی شام میں مسلمانوں کے حوصلے بلند کرے گی اور رومیوں کے دل میں خوف پیدا کرے گی۔ خط میں یہ بھی ذکر تھا کہ فارس کے محاذ پر دیگر صحابہ کرام کو ذمہ داری دی جائے گی اور وہ اس محاذ کو سنبھالیں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ دور اندیشی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ صرف ایک محاذ پر نہیں بلکہ پوری اسلامی ریاست کی بقا اور توسیع کے بارے میں سوچ رہے تھے اس خط میں حضرت خالد بن ولید کو خصوصی طور پر یہ بھی کہا گیا کہ وہ جلد سے جلد شام پہنچیں کیونکہ وہاں وقت بہت کم ہے اور دشمن کی تیاریاں مکمل ہونے والی ہیں

حضرت خالد بن ولید کا فیصلہ اور تیاری

خط ملنے کے بعد پہلا ردعمل

جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خط پڑھا تو فوری طور پر اس کی اہمیت کو سمجھ لیا آپ جانتے تھے کہ یہ کوئی معمولی حکم نہیں بلکہ پوری اسلامی ریاست کے مستقبل سے جڑا ہوا فیصلہ ہے آپ نے فوری طور پر اپنے قریبی ساتھیوں اور لشکر کے سرداروں کو جمع کیا اور انہیں خلیفہ کے حکم سے آگاہ کیا۔ کچھ صحابہ کی رائے تھی کہ فارس کا محاذ ابھی مکمل نہیں ہوا اور یہاں سے جانا مناسب نہیں ہوگا لیکن حضرت خالد بن ولید نے واضح کیا کہ خلیفہ کا حکم سب سے اہم ہے اور اطاعت ہی اصل کامیابی کی کلید ہے آپ نے فرمایا کہ ہمیں اپنے ذاتی خیالات سے زیادہ اسلامی ریاست کی مصلحت کو دیکھنا ہوگا۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ رومی سلطنت فارس سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور اگر ہم نے وقت پر شام نہ پہنچے تو وہاں کے مسلمانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہ سن کر تمام صحابہ نے اتفاق کیا اور فیصلہ کیا کہ جلد از جلد شام کی طرف کوچ کیا جائے

لشکر کی تیاری اور سفر کا آغاز

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوری طور پر لشکر کو شام کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا یہ کوئی آسان سفر نہیں تھا کیونکہ فارس سے شام تک کا راستہ نہ صرف لمبا تھا بلکہ انتہائی مشکل بھی تھا بیچ میں صحرا پہاڑ اور دشمن کے علاقے آتے تھے لیکن حضرت خالد بن ولید کی قیادت اور حکمت عملی ایسی تھی کہ کوئی بھی مشکل ان کے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتی تھی۔ آپ نے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور ہر حصے کو الگ الگ راستوں سے شام کی طرف روانہ کیا تاکہ دشمن کو اندازہ نہ ہو کہ کتنی بڑی تعداد میں مسلمان آ رہے ہیں۔ آپ نے اپنے ساتھ صرف منتخب اور تجربہ کار جنگجو رکھے جو ہر حال میں مشکلات کا سامنا کر سکتے تھے۔ سفر شروع ہونے سے پہلے حضرت خالد بن ولید نے تمام سپاہیوں کو جمع کر کے ایک پرجوش تقریر کی جس میں انہیں یاد دلایا کہ ہم جو کام کر رہے ہیں وہ صرف جنگ نہیں بلکہ دین کی سربلندی کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے

شام کی طرف تاریخی سفر

صحرائے عرب کی مشکل گزرگاہ

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کی طرف جانے کے لیے ایک ایسا راستہ منتخب کیا جو عام طور پر کوئی استعمال نہیں کرتا تھا۔ یہ صحرائے عرب کے درمیان سے گزرنے والا راستہ تھا جہاں پانی کی شدید کمی، گرمی کی شدت اور راستے کی مشکلات تھیں لیکن حضرت خالد بن ولید کا یہ فیصلہ انتہائی دانشمندانہ تھا کیونکہ اس راستے سے کوئی بھی دشمن ان کا تعاقب نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی رومیوں کو اندازہ ہو سکتا تھا کہ مسلمان اس راستے سے آ رہے ہیں۔ اسلامی لشکر نے بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا لیکن کسی نے ہمت نہیں ہاری۔ حضرت خالد بن ولید نے راستے میں کئی بار صحابہ کرام کو اللہ کی یاد دلائی اور انہیں صبر کی تلقین کی۔ آپ نے اونٹوں کے پیٹ میں پانی محفوظ کرنے کا منفرد طریقہ استعمال کیا تاکہ صحرا میں پانی کی کمی کا سامنا نہ ہو۔ اس حکمت عملی نے ثابت کیا کہ حضرت خالد بن ولید صرف ایک جنگجو نہیں بلکہ ایک ماہر حکمت عملی کار بھی تھے۔

شام میں داخلہ اور مسلم افواج سے ملاقات

کئی دنوں کے مشکل سفر کے بعد آخرکار اسلامی لشکر شام کی سرحد کے قریب پہنچ گیا۔ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام میں داخل ہوئے تو وہاں پہلے سے موجود مسلم افواج کو بے حد خوشی ہوئی۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسے مشکل وقت میں حضرت خالد بن ولید جیسا سپہ سالار ان کی مدد کے لیے آیا ہے۔ تمام صحابہ کرام نے آپ کا استقبال کیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ حضرت خالد بن ولید نے فوری طور پر وہاں کے حالات کا جائزہ لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ رومی فوجیں بہت بڑی تعداد میں جمع ہو چکی ہیں اور وہ مسلمانوں کو ختم کرنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔ حضرت خالد بن ولید نے اس صورتحال کو دیکھ کر فوری طور پر حکمت عملی بنانی شروع کر دی۔ آپ نے تمام افواج کو منظم کیا اور ہر ایک کو اپنی ذمہ داری واضح کر دی۔
رومی سلطنت کی عسکری طاقت کے بارے میں مزید معلومات

رومی فوج کی تیاریاں اور مسلمانوں کا ردعمل

رومی بادشاہ ہرقل نے اپنی تمام فوجوں کو حکم دیا کہ وہ بڑی تعداد میں شام کی طرف کوچ کریں اور مسلمانوں کو کچل دیں رومی فوج میں نہ صرف بہترین جنگجو تھے بلکہ جدید ترین ہتھیار، گھوڑے اور جنگی سازوسامان بھی موجود تھا۔ ان کی تعداد مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھی اور انہیں یقین تھا کہ وہ آسانی سے مسلمانوں کو شکست دے دیں گے۔ لیکن انہیں یہ نہیں پتا تھا کہ مسلمانوں کی قیادت اب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کر رہے ہیں۔ حضرت خالد بن ولید نے جانتے تھے کہ رومی فوج تعداد اور سازوسامان میں بہت آگے ہے لیکن آپ کو یقین تھا کہ ایمان حکمت عملی اور اتحاد کے ساتھ کوئی بھی طاقت مسلمانوں کو شکست نہیں دے سکتی۔ آپ نے لشکر کو مختلف یونٹس میں تقسیم کیا اور ہر یونٹ کو خاص ذمہ داری دی۔ حضرت خالد بن ولید نے رات کے وقت ایک خاص دعائیہ اجتماع کیا جس میں تمام مسلمانوں نے اللہ سے نصرت کی دعا مانگی۔ آپ نے صحابہ کرام کو یاد دلایا کہ ہم اللہ کے دین کے لیے لڑ رہے ہیں اور اگر ہمیں شہادت بھی مل گئی تو یہ ہماری کامیابی ہوگی۔ اس تقریر نے تمام مسلمانوں کے دلوں میں ایسا جوش بھر دیا کہ وہ مرنے مارنے پر تیار ہو گئے

پہلی بار رومیوں کے خلاف مسلمانوں کی جرات

یہ پہلی بار تھا کہ مسلمان دنیا کی عظیم ترین سلطنت رومی ایمپائر کے خلاف براہ راست مقابلے کے لیے تیار تھے۔ اس سے پہلے کسی بھی قوم یا طاقت نے رومیوں کو اس طرح چیلنج کرنے کی جرات نہیں کی تھی۔ عرب کے چھوٹے چھوٹے قبائل ہمیشہ رومی طاقت سے خوفزدہ رہتے تھے اور کوئی ان کے سامنے کھڑا ہونے کی سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن مسلمانوں کا ایمان اور یقین اتنا مضبوط تھا کہ انہوں نے تعداد، ہتھیار اور وسائل کی کمی کے باوجود رومی سلطنت کو للکارنے کا فیصلہ کیا۔ یہ صرف ایک فوجی فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ اللہ پر مکمل بھروسے کا اظہار تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو یاد دلایا کہ ہم نے فارس کی طاقتور فوجوں کو شکست دی ہے اور اب اللہ کی مدد سے رومیوں کو بھی شکست دیں گے۔ مسلمانوں کی یہ جرات اور حوصلہ خود رومیوں کے لیے حیرت کا باعث تھا کیونکہ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی چھوٹی سی طاقت ان کے سامنے اس طرح کھڑی ہو سکتی ہے۔

آنے والی عظیم جنگ کی تیاری

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو علم تھا کہ آنے والے دنوں میں اسلامی تاریخ کی ایک اہم جنگ ہونے والی ہے یہ جنگ صرف دو فوجوں کے درمیان نہیں بلکہ دو تہذیبوں کے درمیان تھی۔ ایک طرف رومی سلطنت کی پوری طاقت تھی اور دوسری طرف مسلمانوں کا ایمان اور یقین۔ حضرت خالد بن ولید نے اپنی تمام تر توجہ اس جنگ کی تیاری پر لگا دی اور تمام ممکنہ حکمت عملی سوچنا شروع کر دی آپ نے جاسوسوں کو بھیجا تاکہ رومی فوج کی نقل و حرکت کا پتا چل سکے اور کسی بھی حملے کا پہلے سے اندازہ ہو سکے۔ آپ نے میدان جنگ کا جائزہ لیا اور ایسی جگہ منتخب کی جہاں مسلمانوں کے لیے دفاع آسان ہو اور رومی فوج کی بڑی تعداد ان کے لیے فائدہ مند نہ ہو تمام مسلمان جانتے تھے کہ یہ وقت اسلامی تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ ہے۔ حضرت خالد بن ولید نے ہر سپاہی کو ذہنی اور جسمانی طور پر تیار کیا اور انہیں یقین دلایا کہ اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہے

اختتام

مدینہ منورہ سے آنے والے اس تاریخی خط نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی اور اسلامی فتوحات کا رخ بدل دیا۔ فارس کے محاذ سے شام کی طرف یہ سفر صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھی بلکہ یہ ایک نئے دور کا آغاز تھا حضرت خالد بن ولید نے ثابت کیا کہ خلیفہ کی اطاعت اور اسلامی ریاست کی مصلحت ہر چیز سے اہم ہے اب شام میں رومی سلطنت کے ساتھ ایک عظیم ٹکراؤ ہونے والا تھا جو اسلامی تاریخ کے سب سے اہم واقعات میں سے ایک بننے والا تھا یہ پہلی بار تھا کہ مسلمان دنیا کی عظیم ترین سلطنت کے خلاف کھڑے ہو رہے تھے اور یہ جرات صرف ایمان اور اللہ پر بھروسے سے ممکن تھی۔ حضرت خالد بن ولید کی قیادت، حکمت عملی اور ایمان نے مسلمانوں کو ہر مشکل کا سامنا کرنے کے لیے تیار کر دیا تھا۔ رومی اور فارسی سلطنتوں کا اتحاد بھی مسلمانوں کے عزم کو نہیں توڑ سکا

اگلے حصے پارٹ 17 میں کیا ہوگا

پارٹ 17 میں ہم تفصیل سے دیکھیں گے کہ رومی فوج اور مسلمانوں کے درمیان پہلی ٹکر کیسے ہوئی حضرت خالد بن ولید نے کون سی حکمت عملی استعمال کی، اور کیسے مسلمانوں نے تعداد میں کم ہونے کے باوجود رومی طاقت کو چیلنج کیا اس جنگ میں کون کون سے صحابہ کرام نے شرکت کی اور کیسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی یہ ایک ایسا مرحلہ ہوگا جو اسلامی تاریخ کے سب سے شاندار لمحات میں سے ایک ثابت ہوگا

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

2025 میں موبائل سے پیسے کمانے کے 5 بہترین طریقے – گھر بیٹھے آن لائن انکم کریں

ایزی پیسہ ڈیبٹ کارڈ کے فوائد،بنانے کا طریقہ استعمال اور اے ٹی ایم چارجز کی مکمل معلومات

"WhatsApp سے پیسے کیسے کمائیں؟ مکمل گائیڈ