جنگ جسر کا بدلہ: جنگِ بویب کی عظیم فتح اور حضرت عمر کی حکمت عملی: پارٹ 20

جنگ بویب کی تاریخ اسلامی فتوحات میں ایک ایسا درخشاں باب ہے جس نے مسلمانوں کے دلوں سے جنگ جسر کی شکست کا غم ہمیشہ کے لیے مٹا دیا اور انہیں ایک نئی زندگی عطا کی۔ جب مدینہ منورہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو عارضی ناکامی کی اطلاع ملی تو انہوں نے کمال صبر اور بہترین Strategic Planning کے ساتھ پورے عرب سے مجاہدین کو دوبارہ اکٹھا کرنے کا حکم جاری فرمایا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بخوبی جانتے تھے کہ فارسیوں کے غرور کو خاک میں ملانے کے لیے اب ایک بھرپور Counter Attack کی ضرورت ہے

جنگ بویب کا میدان جہاں اسلامی لشکر نے فارسیوں کو شکست دی
جنگ بویب: جسر کا بدلہ اور اسلامی تاریخ کی ایک عظیم الشان فتح

 جو دشمن کے قدم ہمیشہ کے لیے اکھاڑ دے۔ انہوں نے مختلف قبائل کو اللہ کی راہ میں نکلنے کی دعوت دی اور دیکھتے ہی دیکھتے مدینہ کے گلی کوچوں میں لبیک کی صدائیں گونجنے لگیں کیونکہ ہر مسلمان شہادت کا عظیم جذبہ رکھتا تھا۔ اس نئی مہم کے لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کے اندر Religious Spirit کو بیدار کرنے کے لیے مسجد نبوی میں جذباتی خطبات دیے جس سے لوگوں کے حوصلے ہمالہ کی چوٹیوں سے بھی بلند ہو گئے۔ اگر آپ اس سیریز کا پچھلا حصہ پڑھنا چاہتے ہیں، تو حضرت عمر فاروق کے دور میں جنگِ جسر اور شکست: پارٹ 19 کا مطالعہ کریں تاکہ آپ کو اس معرکے کے تمام اہم اسباب اور کڑیوں کا مکمل علم ہو سکے اور آپ تاریخ کے حقائق کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

شام کا محاذ اور حضرت خالد بن ولید کی بے مثال شجاعت

جس وقت عراق کے محاذ پر جنگِ بویب کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں، ٹھیک اسی وقت شام کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں بھی اسلامی تاریخ کے عظیم معرکے رومیوں کے خلاف لڑے جا رہے تھے۔ حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہم کی قیادت میں اسلامی لشکر رومی سلطنت کی مضبوط دیواریں گرا رہا تھا اور اسلام کا پرچم بلند کر رہا تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی بہترین Military Strategy کے تحت بیک وقت دو بڑی طاقتوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے دونوں محاذوں کو سنبھال رکھا تھا تاکہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکے۔ شام میں مسلمانوں کی مسلسل کامیابیاں عراق میں لڑنے والے مجاہدین کے لیے Mental Strength کا باعث بن رہی تھیں کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اللہ کی نصرت ہر میدان میں ان کے ساتھ ہے۔ ان مبارک ہستیوں کی زندگی اور غزوات کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے آپ ہماری ویب سائٹ پر موجود سیرت النبی ﷺ مکمل سیریز کا وزٹ کر سکتے ہیں جہاں ایمان افروز قصے اور مستند واقعات درج کیے گئے ہیں۔

رومیوں کے خلاف خالد بن ولید کا تاریخی کردار

شام کے میدانوں میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے رومیوں کی عددی برتری کو اپنی بہترین Combat Skills سے شکست دے کر یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان کسی مادی طاقت سے نہیں ڈرتے۔ رومیوں کی لاکھوں کی فوج کے سامنے مٹھی بھر مسلمانوں نے جس بہادری کا ثبوت دیا، اس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا اور قیصرِ روم کے محلوں میں لرزہ طاری کر دیا۔ حضرت خالد بن ولید کی ہر چال دشمن کے لیے ایک نئی مصیبت بن جاتی تھی اور وہ اپنی Quick Decisions کی بدولت ہاری ہوئی جنگوں کو بھی فتح میں بدلنے کا فن جانتے تھے۔ شام کی ان کامیابیوں نے عراق میں موجود مجاہدین کے حوصلے اس لیے بھی بلند کیے کیونکہ اب انہیں معلوم تھا کہ رومی سلطنت اب انہیں پیچھے سے نقصان پہنچانے کے قابل نہیں رہی۔

حضرت مثنیٰ بن حارثہ کی نئی جنگی حکمت عملی

عراق کے محاذ پر پہنچ کر حضرت مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے اپنی War Tactics کو نئے سرے سے ترتیب دیا تاکہ فارسیوں کے خوفناک ہاتھیوں کا موثر توڑ نکالا جا سکے۔ انہوں نے بویب کے مقام پر دریائے فرات کے کنارے ایک ایسی جگہ کا انتخاب کیا جہاں مسلمانوں کے پاس پوزیشن بدلنے کی جگہ موجود ہو اور وہ دشمن کو آسانی سے گھیر سکیں۔ فارسی سپہ سالار مہران ایک ٹڈی دل فوج اور ہولناک ہاتھیوں کے ساتھ سامنے آیا لیکن اس بار مجاہدین نے اپنی Battle Order کو اتنا مضبوط رکھا کہ دشمن کا ہر وار رائیگاں گیا۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کو سخت ہدایت دی کہ وہ اپنے روزے افطار کر لیں تاکہ ان میں لڑنے کے لیے بھرپور Physical Energy موجود ہو اور وہ کسی قسم کی کمزوری کا شکار نہ ہوں، جس کے بعد اسلامی لشکر نے دشمن پر ایسا کاری ضرب لگایا کہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔

بویب کے میدان میں فارسیوں کی عبرتناک شکست

جنگِ بویب کے میدان میں فارسیوں کی لاشوں کے ایسے ڈھیر لگے کہ تاریخ نگاروں نے اس جگہ کا نام ہی بدل دیا کیونکہ ایک ایک مجاہد نے دس دس دشمنوں کا تن تنہا مقابلہ کیا۔ مسلمانوں نے اپنی اس Historic Victory کے ذریعے پوری دنیا کو پیغام دے دیا کہ وہ اللہ کی نصرت سے کسی بھی بڑی طاقت کا غرور خاک میں ملا سکتے ہیں چاہے بظاہر وسائل کم ہی کیوں نہ ہوں۔ اس فتح کے بعد مسلمانوں کو کثیر مقدار میں مالِ غنیمت حاصل ہوا اور عراق کے وہ تمام علاقے جو ہاتھ سے نکل گئے تھے، دوبارہ اسلامی ریاست کا حصہ بن گئے جو کہ ایک اہم Financial Boost تھی۔ اگر آپ اس عہد کے سیاسی حالات اور خلافتِ راشدہ کے بارے میں مزید مستند حقائق جاننا چاہتے ہیں، تو آپ خلافتِ راشدہ کی تاریخ کا یہ تفصیلی باب دیکھ سکتے ہیں جس میں اس دور کی International Politics کو بیان کیا گیا ہے۔

حاصلِ مطالعہ: مستقبل کی فتوحات کا پیش خیمہ

خلاصہ یہ کہ جنگِ بویب نے مسلمانوں کو وہ کھویا ہوا مقام دوبارہ عطا کیا جو جنگِ جسر کی وجہ سے متاثر ہوا تھا اور اس نے فارسیوں کے ناقابلِ شکست ہونے کا افسانہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ اس تحریر میں ہم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی بصیرت اور مجاہدینِ اسلام کے اس بے مثال جذبے کو بیان کیا ہے تاکہ ہم اپنی Glorious History سے روشنی حاصل کر سکیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ معلومات آپ کے ایمان کو جلا بخشیں گی اور آپ کو ایک سچے مسلمان کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اس جنگ نے ثابت کیا کہ اتحاد اور ایمان کی طاقت دنیا کے کسی بھی جدید ترین Weapon System سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اور یہی مسلمانوں کی اصل کامیابی کا راز ہے جو صدیوں سے برقرار ہے۔

اگلے حصے میں کیا ہوگا

پارٹ 21 میں آپ پڑھیں گے کہ جنگِ بویب کی اس عظیم الشان فتح کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کس طرح قادسیہ کے فیصلہ کن معرکے کا نقشہ تیار کیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو سپہ سالار مقرر کرتے وقت حضرت عمر نے انہیں کیا تاریخی نصیحتیں کیں؟ کیا فارسی بادشاہ یزدگرد نے مسلمانوں کی شرائط مانیں یا اپنی تباہی کا آخری سامان خود تیار کیا؟ یہ سب جاننے کے لیے پارٹ 21 کا انتظار کریں جہاں حضرت خالد بن ولید کی فتوحات کا بھی مختصر تذکرہ شامل ہوگا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

2025 میں موبائل سے پیسے کمانے کے 5 بہترین طریقے – گھر بیٹھے آن لائن انکم کریں

ایزی پیسہ ڈیبٹ کارڈ کے فوائد،بنانے کا طریقہ استعمال اور اے ٹی ایم چارجز کی مکمل معلومات

"WhatsApp سے پیسے کیسے کمائیں؟ مکمل گائیڈ