حضرت عمر فاروق کے دور میں جنگ جسر اور اسلامی لشکر کو پہلی شکست پارٹ 19

اسلامی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جو مسلمانوں کے ایمان اور صبر کو آزماتے ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز ہوا تو مسلمانوں کو دو بڑے محاذوں کا سامنا تھا۔ ایک طرف شام میں رومی سلطنت اسلامی لشکر کے خلاف صف آرا تھی۔ دوسری طرف عراق میں طاقتور فارسی سلطنت نے اپنی فوجیں جمع کرنا شروع کر دی تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی دانشمندی سے دونوں محاذوں کو سنبھالنے کی منصوبہ بندی کی۔ 

جنگ جسر میں اسلامی لشکر اور فارس کی فوج کا منظر
حضرت عمر فاروق کے دور میں جنگ جسر پارٹ 19

پچھلے حصے میں ہم نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیسے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور فارس کی بڑھتی ہوئی دھمکیوں کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا

پچھلا حصہ یہاں پڑھیں:

👈 حضرت عمر کی خلافت کا آغاز اور فارس کا خطرہ پارٹ 18

اب 14 ہجری میں عراق کے محاذ پر وہ جنگ لڑی جانی تھی جو تاریخ میں جنگ جسر کے نام سے مشہور ہوئی۔ یہ پہلی بار تھا جب اسلامی لشکر کو ایک بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس المناک دن نے مسلمانوں کو زندگی بھر یاد رہنے والے سبق دیے۔

عراق میں فارسی سلطنت کی بڑھتی طاقت

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی مہینوں میں عراق کا پورا علاقہ فارسی سلطنت کے تسلط میں تھا۔ فارسی بادشاہ یزدگرد سوم کو جب یہ اطلاع ملی کہ مسلمان شام میں رومیوں کو شکستیں دے رہے ہیں تو اس نے فوری اقدام کیا۔ اس نے اپنے تمام صوبوں میں حکم بھیجا کہ فوجیں جمع کی جائیں۔ عراق کے بڑے شہر حیرہ، انبار اور کوفہ مضبوط فارسی فوجی چھاؤنیاں بن گئے۔ فارسی فوج باقاعدگی سے عرب قبائل پر چھاپے مارتی تھی۔ مقامی لوگ خوف میں جی رہے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابتداء میں چھوٹے لشکر بھیجے تھے۔ یہ لشکر فارسی چوکیوں پر کامیاب حملے کرتے رہے۔ لیکن فارسی سلطنت کی جڑوں کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا تھا۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جنگی تیاریاں

مدینہ منورہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہر روز صحابہ کرام کے ساتھ جنگی مشورے کرتے۔ ایک طرف شام سے خوشخبریاں آ رہی تھیں۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اسلامی لشکر رومی فوج کو مسلسل شکستیں دے رہا تھا۔ دوسری طرف عراق سے پریشان کن اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔ فارسی اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کر رہے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ اب عراق کے لیے ایک بڑے اور منظم لشکر کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مسجد نبوی میں اعلان کیا۔ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے رضاکاروں کی ضرورت ہے۔ مدینہ منورہ کے نوجوان مجاہدین آگے بڑھے۔ صحابہ کرام نے بھی اپنے نام لکھوائے۔ یہ دیکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے۔

حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ کو کمانڈر مقرر کیا گیا

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس اہم مہم کی قیادت کے لیے حضرت ابو عبید بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ کا انتخاب کیا۔ یہ قبیلہ ثقیف کے ایک بہادر اور تجربہ کار سپاہی تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ مرتدین کے خلاف جنگوں میں شریک رہے تھے۔ ان کی بہادری مشہور تھی۔ حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ نے یہ بھاری ذمہ داری خوشی سے قبول کی۔ ان کے ساتھ تقریباً دس ہزار مجاہدین تھے۔ ان میں صحابہ کرام اور تابعین شامل تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں تفصیلی ہدایات دیں۔ دشمن سے احتیاط سے نمٹنا ہے۔ عوام پر کوئی ظلم نہیں ہونا چاہیے۔ نماز کا خاص خیال رکھنا ہے۔ 14 ہجری میں یہ اسلامی لشکر مدینہ منورہ سے عراق کی طرف روانہ ہوا۔

 اسلامی تاریخ کے بارے میں مزید معلومات:

شام میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی کامیابیاں

جب عراق کے لیے اسلامی لشکر کی تیاریاں ہو رہی تھیں، شام کے محاذ پر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ شاندار فتوحات حاصل کر رہے تھے۔ رومی فوجیں مسلمانوں کے سامنے ٹھہر نہیں پا رہی تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو سپریم کمانڈر کے عہدے سے ہٹا کر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کو امیر بنا دیا تھا۔ لیکن حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فیلڈ کمانڈر کے طور پر اپنی شاندار جنگی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ دمشق، حمص اور دیگر اہم شہر یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے ہاتھ میں آ رہے تھے۔ رومی بادشاہ ہرقل کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ان عرب مجاہدین کو کیسے روکا جائے۔

اسلامی لشکر کی عراق میں پہلی آمد

حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اسلامی لشکر عراق کی سرحد پر پہنچا۔ انہوں نے حیرہ شہر کے قریب اپنا کیمپ قائم کیا۔ ابتدائی دنوں میں مسلمانوں نے کئی چھوٹی فارسی چوکیوں پر کامیاب حملے کیے۔ مقامی عرب قبائل جو فارسیوں کے ظلم سے تنگ آ چکے تھے، مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونا شروع ہو گئے۔ یہ خبر جب فارسی بادشاہ یزدگرد سوم کو ملی تو وہ بہت پریشان ہوا۔ اس نے فوری طور پر اپنے تجربہ کار سپہ سالار بہمن جاذویہ کو بلایا۔ بہمن کو حکم دیا گیا کہ ایک بڑی فوج لے کر فوری طور پر مسلمانوں کا مقابلہ کرو۔ بہمن نے بیس ہزار سے زیادہ فوجیوں کا لشکر تیار کیا۔ اس لشکر میں خوفناک جنگی ہاتھی بھی شامل تھے جو دشمن کی صفوں کو روند ڈالنے کے لیے مشہور تھے۔

دریائے فرات پر خطرناک پل کا انتخاب

فارسی سپہ سالار بہمن نے دریائے فرات پر ایک لکڑی کے پل کے قریب اپنا کیمپ لگایا۔ یہ پل بہت پرانا اور تنگ تھا۔ اسی لیے اس جنگ کو جنگ جسر یعنی پل کی جنگ کہا جاتا ہے۔ بہمن نے یہ جگہ بہت سوچ سمجھ کر منتخب کی تھی۔ اس کا منصوبہ تھا کہ جب مسلمان تنگ پل سے گزریں گے تو وہ مناسب طریقے سے لڑ نہیں سکیں گے۔ فارسیوں نے پل کے دوسری طرف اپنی فوج کو صف بندی کر دی۔ جنگی ہاتھیوں کو سامنے کی صفوں میں رکھا گیا۔ جب حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ اس مقام پر پہنچے تو کچھ صحابہ نے مشورہ دیا۔ ہمیں پل عبور نہیں کرنا چاہیے۔ فارسیوں کو ہی اس پار آنے دینا چاہیے۔ لیکن حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ نے بہادری دکھاتے ہوئے کہا کہ ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم پل عبور کر کے دشمن سے لڑیں گے۔

جنگ جسر کا المناک آغاز

14 ہجری میں ایک سخت گرم دن میں جنگ جسر شروع ہوئی۔ اسلامی لشکر نے لکڑی کے تنگ پل کو عبور کرنا شروع کیا۔ پل اتنا تنگ تھا کہ ایک وقت میں صرف چند سپاہی ہی گزر سکتے تھے۔ جیسے جیسے مسلمان دوسری طرف پہنچتے، فارسی فوج ان پر بھرپور حملہ کرتی۔ سب سے بڑی مشکل فارسیوں کے خوفناک جنگی ہاتھی تھے۔ یہ ہاتھی جب صفوں کی طرف بڑھتے تو مسلمانوں کے گھوڑے خوف سے بھاگنے لگتے۔ حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ نے یہ صورتحال دیکھی۔ انہوں نے فوری طور پر ایک بہادرانہ فیصلہ کیا۔ وہ خود اپنے گھوڑے سے اترے۔ سب سے بڑے ہاتھی کی طرف دوڑے۔ تلوار سے اس کی سونڈ پر زور دار وار کیا۔ ہاتھی کی سونڈ کٹ گئی۔ لیکن زخمی اور مشتعل ہاتھی نے اپنے بھاری پاؤں سے حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ کو کچل دیا۔ وہ شہید ہو گئے۔

اسلامی لشکر میں صدمے کی لہر دوڑ گئی۔ ان کے بھائی حکم بن مسعود نے فوری طور پر جھنڈا اٹھایا اور قیادت سنبھالی۔ لیکن وہ بھی چند لمحوں بعد شہید ہو گئے۔ اس کے بعد ایک کے بعد ایک سات مسلمان کمانڈر شہید ہوتے گئے۔ لیکن کسی نے بھی میدان نہیں چھوڑا۔ آخر میں حضرت مثنیٰ بن حارثہ شیبانی رضی اللہ عنہ نے قیادت سنبھالی۔ وہ ایک تجربہ کار اور عقلمند سپاہی تھے۔ انہوں نے میدان جنگ کا جائزہ لیا۔ فارسی فوج کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ جنگی ہاتھی مسلمانوں کی صفوں میں تباہی مچا رہے تھے۔ تنگ پل کی وجہ سے مسلمان مناسب طریقے سے لڑ نہیں پا رہے تھے۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک مشکل لیکن ضروری فیصلہ کیا۔

اسلامی لشکر کی پہلی شکست اور واپسی

حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ نے منظم طریقے سے واپسی کا حکم دیا۔ یہ بہت مشکل کام تھا کیونکہ پل تنگ تھا اور فارسی فوج پیچھا کر رہی تھی۔ بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ کچھ دریا میں گر کر ڈوب گئے۔ اس المناک جنگ میں تقریباً چار ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ یہ اسلامی تاریخ میں پہلی بڑی شکست تھی جس نے اسلامی لشکر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ خود بھی بری طرح زخمی ہوئے لیکن انہوں نے باقی لشکر کو بچا لیا۔ مسلمانوں نے ایک محفوظ مقام پر کیمپ لگایا۔ زخمیوں کا علاج شروع کیا۔ شہداء کے لیے دعائیں کیں۔ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ دن تھا لیکن مسلمانوں کا ایمان مضبوط رہا۔

مدینہ منورہ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ردعمل

جب جنگ جسر میں اسلامی لشکر کی پہلی شکست کی خبر مدینہ منورہ پہنچی تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو گہرا صدمہ پہنچا۔ انہوں نے حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ اور تمام شہداء کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ ان کی بہادری کو خراج تحسین پیش کیا۔ لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کبھی مایوسی کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے صحابہ کرام سے کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہمارا امتحان ہے۔ ہمیں صبر کرنا چاہیے اور اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ فوری طور پر حضرت مثنیٰ رضی اللہ عنہ کو حوصلہ افزا خط لکھا۔ ان کی حکمت عملی کی تعریف کی۔ لکھا کہ تم نے بہترین فیصلہ کیا جو باقی لشکر کو بچا لیا۔ اب مزید کمک بھیجی جا رہی ہے۔

جنگ جسر سے اسلامی لشکر نے انمول سبق سیکھے۔ پہلا سبق یہ تھا کہ دشمن کی طاقت کو کبھی کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ دوسرا سبق یہ تھا کہ میدان جنگ کا صحیح انتخاب بہت اہم ہے۔ تیسرا سبق یہ تھا کہ دشمن کی خاص صلاحیتوں جیسے جنگی ہاتھیوں سے نمٹنے کے لیے خاص حکمت عملی ضروری ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان تمام سبق کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئندہ مہمات کی منصوبہ بندی شروع کر دی۔ اگرچہ یہ اسلامی لشکر کی پہلی شکست تھی لیکن اس نے مسلمانوں کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بنایا۔

اگلے حصے میں کیا ہوگا

پارٹ 20 میں آپ پڑھیں گے کہ جنگ جسر کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا نئی حکمت عملی بنائی۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو عراق کا کمانڈر کیسے بنایا گیا۔ مدینہ منورہ میں لوگوں نے جہاد کے لیے جانے سے کیوں انکار کیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خالد، خالد، خالد کہتے ہوئے کیا اہم بات کہی۔ جنگ بویب میں اسلامی لشکر نے فارسیوں کو کیسے شکست دی اور جنگ جسر کا بدلہ لیا۔ یہ سب کچھ جاننے کے لیے پارٹ 20 ضرور پڑھیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

2025 میں موبائل سے پیسے کمانے کے 5 بہترین طریقے – گھر بیٹھے آن لائن انکم کریں

ایزی پیسہ ڈیبٹ کارڈ کے فوائد،بنانے کا طریقہ استعمال اور اے ٹی ایم چارجز کی مکمل معلومات

"WhatsApp سے پیسے کیسے کمائیں؟ مکمل گائیڈ